خواجہ سعد رفیق 192

کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن عالمی حیثیت اختیار کر چکا ہے ، کشمیری عوام صدیوں سے مظالم کا شکار ہیں ، خواجہ سعد رفیق

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن عالمی حیثیت اختیار کر چکا ہے جب پوری دنیا کے اندر کشمیریوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے، کشمیری عوام صدیوں سے مظالم کا شکار ہیں پہلے وہ ڈوگروں کے ساتھ لڑے اور اب 73 سالوں سے ہندوستان کے جبر و استبداد کا شکا ر ہیں، کشمیریوں کا قتل عام، نسل کشی، خواتین کی آبروریزی، جوانوں کے لاشے گرانا ہندوستانی فورسز اور اس کے ادراوں کا معمول بن چکا ہے،

اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب را ئے تک یہ خطہ جنگ کے دھانے پر کھڑا رہے گا، وزیراعظم عمران خان نے کوٹلی میں تھرڈ آپشن کی بات کرکے ایک نیا پنڈوڑا بکس کھول دیا ہے، کسی حکمران کو یہ حق اور اختیارحاصل نہیں کہ وہ ریاست جسے قائد اعظم نے شہ رگ قراردیا تھا کے بارے میں ریاستی اور قومی پالیسی کے منافی ازخود کوئی بات کرے،یہ بائیس کروڑ پاکستانیوں کو کسی صورت قبول نہیں، کشمیر کاز کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ، فارن آفس، قومی سلامتی کے ادارے سر جوڑ کر بیٹھیں اورایک مستقل کشمیر پالیسی ترتیب دیں،آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں گلگت کے انتخابات کا ایکشن ری پلے تباہ کن ہو گا-

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن لاہور کے زیر اہتمام ” یوم یکجہتی کشمیر“ کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جسکی صدارت مسلم لیگ لاہور کے صدر ملک پرویز اعوان نے کی۔ جلسہ سے مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے رہنما اور ڈائریکٹرجنرل جموں وکشمیر لبریشن سیل فدا حسین کیانی، ملک پرویز اعوان، خواجہ امران نذیر، محترمہ شائستہ پرویز اعوان اور محترمہ کرن ڈار ایم این اے نے بھی خطاب کیا۔ خواجہ سعد رفیق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر کا باقائدہ آغاز قائد مسلم لیگ ن محمد نواز شریف اور قاضی حسین احمد نے شروع کیا اور آج یہ دن عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کشمیری لیڈر مقبوضہ جموں وکشمیر کی جیلوں میں بند ہیں ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں،جن کے لئے ریاست پاکستان کو عالمی سطح پر موثر اور منظم مہم چلانی چاہے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کسی حکمران یا لیڈر کو یہ اختیار نہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے اتفاق رائے کے بغیر ایسی بات کرے جس سے کشمیر کاز اور حریت کانفرنس کے بیانیے کو نقصان پہنچے اور بھارت کو فائدہ ہو، عمران خان آزادکشمیر کی سرزمین پر جا کر موودی سے مذاکرات کی بھیک مانگتے ہین، ایک طرف نواز شریف وزیر اعظم تھے جو ہندوستان کے وزیر اعظم کو بس پر لاہور بلا کر مینار پاکستان پر لے جاتے اور پاکستان کی حقیقت کو تسلیم کراتے، اور باوقار انداز میں مذاکرات کی بات کرتے جبکہ اب ایک ایسے وزیر اعظم کو تخت نشین کرایا گیا ہے جسکو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کہاں کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا، خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اہل پاکستان کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، مسلم لیگ ن قائد محمد نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کی خاطر اپنا قومی کردار ادا کرتی رہے گی۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں گلگت کے انتخابات کا ایکشن ری پلے تباہ کن ہو گا،2018 کے پاکستان کے انتخابات کی طرح پولیٹیکل انجینرننگ ہوئی تو اس کے نتائج خطرناک ہوں گے، تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ میں نفاق کا بیج بونا اور دھاندلی سے کشمیر کاز کو نقصان ہو گا، سیاست کا مقابلہ ہم پاکستان میں کر لیں گے آزادکشمیر کو سیاسی اکھاڑہ بنانے سے گریز کیا جائے اور وہاں عوام کو اپنے نمائندے آزادانہ ماحول میں منتخب کرنے کا حق ملنا چاہے۔مسلم لیگ ن آزادکشمیرکے رہنما اور ڈائریکٹرجنرل جموں وکشمیر لبریشن سیل فدا حسین کیانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام 1931سے قربانیوں کی تاریخ رقم کر رہے ہیں جب بائیس نوجوانوں نے اپنے مقدس خون سے آذان کی تکمیل میں اپنے مقدس خون سے ریاست کے اندر دو قوی نظریے کی بنیاد رکھی اور اس جدو جد کے تسلسل میں 1947میں قیام پاکستان ے یک ماہ قبل قرارداد الحاق پاکستان کے ذریعے اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام تاریخ کے نازک ترین موڑ سے گزر رہے ہیں، آج کشمیریوں کو یکجہتی سے زیادہ ریاست جموں وکشمیر کا تشخص بچانے کی فکر لاحق ہے، کشمیریوں کے تشخص اوران کی پہچان کو خطرات لاحق ہیں، جس کو بچانے کے لئے مسلم لیگ ن جو پاکستان اور قائداعظم کے نظریات کی وارث جماعت ہے کی قیادت کو پہرہ دینا ہو گا۔ فدا کیانی نے کہا کہ آزاد کشمیر قانون سا اسمبلی کے انتخابات میں ہارس ٹریڈننگ اور دباو¿، دھاند لی کے ذریعے من پسند کے لوگ لانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جسے روکنا ہو گا۔ فدا کیانی نے کہا کہ یہ کیسی یکجہتی ہے کہ وزیراعظم پاکستان جنہیں ریاستی اسمبلی سے خطاب کر کے دونوں اطراف کے کشمیریوں کو ایک مثبت پیغام دینا چاہے تھا وہ کوٹلی میں اپنی جماعت کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہیں اور قائداعظم کے اصولوں سے ہٹ کر ایک ایسے تھرڈ آپشن کی بات کرتے ہیں جس کا اقوام متحدہ کی قرارادوں سمیت کہیں بھی کوئی وجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو یہ اعزازحاصل ہے کہ آزاد کشمیر کے اندراس کی قیادت وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان جیسے نڈر، بیباک لیڈر کے پاس ہے جو ریاستی تشخص کے خلاف سازش کرنے والوں کی آنکھوں میں آنکھین ڈال کر بات کرتے ہیں اور گزشتہ ساڑھے چارسال سے وزیر اعظم ریاست اور مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر کی حیثیت سے آزا کشمیر، پاکستان سمیت دنیا بھر کے اندر کشمیریوں کی موثر اور طاقتور آواز بن کر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ فدا کیانی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدر خان کی قیادت میں ایک مظبوط قوت ہے، قائد نوازشریف نے آزاد کشمیر کا بجٹ دوگنا کیا جس کو تحریک آزادی کشمیر کے نکتہ نظر سے آزاد کشمیر میں بلاتخصیص تعیر و ترقی پر استعمال کیا گیا۔

جلسہ عام میں ایک قرارداد کے ذریعے کشمیری عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں برسرپیکار حریت پسند عوام کو یقین دلایا گیا کہ پاکستان کے عوام اور مسلم لیگ کے کارکنان ان کی جدو جہد میں شریک ہیں اور ریاست کی مکمل آزادی اور اس کے پاکستان سے الحاق تک کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں