سپریم کورٹ 40

کرایہ داری کا حتمی اصول طے، مالک کے انتقال پر قانونی وارث ازخود مالک قرار

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) سپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق ایک اہم اور حتمی اصول طے کر دیا، عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کےقانونی وارث ازخودمالک تصور ہوں گے اور نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا بے دخلی کا فیصلہ درست قرار دے دیا، سندھ ہائیکورٹ نے کرایہ داروں کو دکانیں خالی کر کےساٹھ دن کےاندرمالکان کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا،اس فیصلے کےخلاف دائراپیل پر چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اورجسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بنچ نےسماعت کی، جسٹس شکیل احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سےفیصلےمیں کہاگیا کہ اصل مالک کےانتقال کے بعد بیٹے نے قانونی نوٹس دے کر کرایہ اور بقایاجات ادا کرنےکا مطالبہ کیا، کرایہ داروں نے مالک کےانتقال اور جنازےمیں شرکت کا اعتراف کیا مگر قانونی وارثوں کو کرایہ ادا نہیں کیا، نوٹس کے باوجود کرایہ قانونی وارثوں کو دینے کے بجائے متوفی مالک کے نام پرعدالت میں جمع کرایا جاتا رہا۔

فیصلہ میں کہا گیا کہ قانونی وارث نے کرایہ ادا نہ کرنے پر کرایہ داروں کے خلاف بےدخلی کی درخواست دائر کی،کرایہ داروں کا موقف تھا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ ہیں۔

سپریم کورٹ کے مطابق نوٹس ملنے کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانوناً ادائیگی تصور نہیں ہوتا، قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے، جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں