جنرل فیض حمید 215

ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا وفد کے ہمراہ دورہ کابل

کابل (رپورٹنگ آن لائن)پاک فوج کے شعبہ انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید وفد کے ہمراہ افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گئے ہیں جہاں پر انہوں نے طالبان لیڈر شپ سے مشاورت کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کے روز ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید وفد کے ہمراہ افغانستان کے اہم دورہ پر کابل پہنچے۔ اس موقع پر طالبان رہنماﺅں نے انہیں خوش آمدید کہا۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی قیادت میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان پاک افغان سیکیورٹی، اقتصادی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

نجی ٹی وی کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے طالبان حکومت کے انٹیلی جنس چیف ملانجیب سے ملاقات بھی کی ہے جس دوران دونوں ممالک کی قومی سلامتی کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر طالبان رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے اور ہمارا قابل بھروسہ دوسست ملک ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ ملک میں امن و امان قائم ہو جس کیلئے ہمیں پاکستان کے قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔ افغان طالبان نے ملاقات میں اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ اس موقع پر افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد پاک افغان تعلقات سے متعلق معاملات پر گفتگو کی گئی۔ واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض طالبان شوریٰ کی دعوت پر کابل پہنچنے والے اعلیٰ ترین درجہ کے پہلے غیر ملکی عہدیدار ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق قبل ازیں کابل آمد پر میڈ یا سے گفتگو میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفیٹننٹ جنرل فیض حمید نے کہا کہ وہ یہاں پاکستانی سفیر سے ملنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان پہلے بھی افغانستان کی بہتری کے لیے کام کرتا رہاہے اورمستقبل میں بھی افغان امن کے لیے کام کرتے رہیں گے۔پریشان ہونے کی ضرورت نہیں سب ٹھیک ہو گا۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے مزید کہا کہ کابل میں جو بھی ملاقاتیں ہوں گی ان کا اہتمام افغان سفیر کریں گے۔ واضح رہے کہ طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر 15 اگست کو کنٹرول حاصل کر لیا تھا جبکہ معاشی طور پر تباہی اور بھوک و افلاس کے خدشات کے ساتھ 31 اگست کو افغانستان میں 20 سالہ مغربی جنگ کا خاتمہ ہوگیا تھا۔گذشتہ روز طالبان کی جانب سے نئی افغان حکومت کا اعلان موخر کردیا گیا تھا۔طالبان کی جانب سے نئی افغان انتظامیہ کا اعلان ہفتے تک التواء کا شکار ہوگیا ہے۔ معاون ترجمان افغان طالبان بلال کریمی نے کہا کہ گزشتہ جمعہ نئی حکومت سے متعلق تاریخ کا اعلان نہیں کیا، نئی حکومت کا جلد اعلان کریں گے تاخیر نہیں ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں