تنویر سرور۔۔
اینٹی کرپشن لاہور ریجن اے میں الٹی گنگا بہنے لگی۔ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمد اصغر نے ایل ڈی کے افسروں کو پہلے ایک انکوائری میں گناہگار جبکہ اسی معاملے کی دوسری انکوائری میں بے گناہ قرار دیدیا۔

محمد خالد نامی شہری نے ایل ڈی اے کے ہربنس پورہ تا جلو موڑ نہر کے کناروں کی بحالی کے منصوبے میں اتھارٹی کے ڈائیریکٹر ہارون سیفی، ایکسئن نعمان ، ایس ڈی او کاشف درانی اور سب انجنئیر شفیع شاہین کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے ، مذکورہ منصوبے میں کرپشن کرنے، بدعنوانی اور خوربرد جوشیلے الزامات پر مبنی درخواست اینٹی کرپشن لاہور ریجن میں دائر کی۔

جس پر ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل اینٹی کرپشن لاہور ریجن اے محمد اصغر نے ابتدائی انکوائری نمبرC-1020/21 میں الزامات کودرست قرار دیتے ہوئے مجاز اتھارٹی سے معاملے کی ریگولر انکوائری کی سفارش کی۔

جس پر مجاز اتھارٹی نے ریگولر انکوائری نمبر E-364/21-LHRشروع کرنے کی منظوری دی جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمد اصغر نے ہمراہی ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن اینٹی کرپشن کے معاملے کی انکوائری میں الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ایل ڈی اے کے متذکرہ بالا افسروں کو بے گناہ تحریر کردیا ہے۔

ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ اینٹی کرپشن کے ڈپٹی ڈائیریکٹر ٹیکنیکل محمد اصغر نے مبینہ طورپر رشوت لے کر ایل ڈی اے کے افسروں اور ٹھیکیدار کو جنہیں پہلے قصور وار ٹھہرایا گیا تھا انہیں بعدازاں بے گناہ قرار دیدیا گیا ہے۔

البتہ اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمد اصغر نے رشوت لینے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے میرٹ پر انکوائری کی ہے۔ابتدائی انکوائری میں الزامات ثابت ہونے پر ریگولر انکوائری کی سفارش کی تھی جبکہ ریگولر انکوائری میں الزامات ثابت نہ ہونے پر انکوائری ڈراپ کرنے کی سفارش کی گئی۔
ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمد اصغر نے ابتدائی انکوائری کی تھی انہیں ریگولر انکوائری کرنے سے معذوری ظاہر کرنا چاہیئے تھی۔لیکن انہوں نے ایسا نہ کرکے خود پر انگلیاں اٹھائے جانے کا موقع فراہم کیا






