بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) نوبل انعام یافتہ امریکی ماہراقتصادیات پروفیسر تھامس سارجنٹ میکرو اکنامک ریسرچ میں دنیا کے سب سے نمایاں اسکالرز میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے چائنا میڈیا گروپ کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ چین کی تیز رفتار ترقی کا راز اس حقیقت میں مضمر ہے کہ چینی رہنماؤں کے فیصلوں نے چین میں قوت محرکہ ، جدت، کاروباری جذبے اور سائنسی تحقیقی صلاحیتوں کو ابھارا ہے۔
پروفیسر سارجنٹ کا کہنا تھا کہ دہائیوں سے چین بیرونی دنیا کے لیے اپنے کھلے پن پر منظم طریقے سے عمل پیرا رہا ہے اور اشیاء اور خدمات کی تجارت، سرحد پار آزاد تجارت، کھلی بندرگاہوں اور سرحدی رابطوں کو فروغ دیتا رہا ہے جو چین کی کامیابی کی کلید ہے۔ چین سائنسی ترقی، علم کے حصول اور اعلیٰ تعلیم کو اہمیت دیتا ہے، اور اساتذہ اور طلباء یکساں طور پر سائنس کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں؛ یہ سب عوامل چین کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آج چین مختلف تکنیکی شعبوں میں سرفہرست ہے اور انہی فیصلوں نے یہ سب ممکن بنایا ہے۔ تاریخ نے باربار یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ممالک جو بیرونی دنیا کے لیے کھلے پن پر قائم رہتے ہیں، کاروباری جذبے کو ابھارتے ہیں، اور مستحکم نظم و نسق، قواعد اور عمدہ کاروباری ماحول رکھتے ہیں، ہمیشہ نمایاں ترقی حاصل کرتے ہیں۔
پروفیسر سارجنٹ نے چین کی جانب سے مسلسل ترتیب دیئے گئے پانچ سالہ منصوبوں کو خوب سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا ، تو پھر پانچ کے بجائے دس سال کیوں نہیں؟ کیونکہ مستقبل بعید غیریقینی عوامل سے بھرپور ہوتا ہے، لیکن چین کے پانچ سالہ منصوبے پالیسی تسلسل کے حامل ہوتے ہیں جو وسائل کو مخصوص اہداف کی جانب مؤثر انداز میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ پرفیسر سارجنٹ کا ماننا ہے کہ دنیا میں بیشتر ماہرین اقتصادیات آزاد تجارت اور کھلی سرحدوں کی حمایت کرتے ہیں، اور باہمی تبادلے کے حامی ہوتے ہیں۔
امریکی سیاست دانوں کا دعوی ہے کہ ہم ٹیرف لگائیں گے، ہم مینوفیکچرنگ کو امریکہ میں واپس لائیں گے اور ہم ٹیرف کے ذریعے مالی آمدنی میں نمایاں اضافہ کریں گے۔ یہ ایک متضاد موقف ہے۔ پروفیسر سارجنٹ نے یہ بھی کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے اس دور میں مستحکم قواعد، قابل اعتماد وعدے اور کھلا تعاون خطرات کو کم کرنے اور اعتماد بڑھانے کی بنیاد ہے۔









