چینی وزیر اعظم 27

چین، پالیسیوں کے تعاون سے مثبت معاشی گردش کو متحرک کیا جائے، رپورٹ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چینی وزیر اعظم لی چھیانگ کی صدارت میں چین کی ریاستی کونسل کا ایگزیکٹو اجلاس منعقد ہوا، جس میں مربوط مالی و مالیاتی اقدامات کے ذریعے ملکی طلب کو فروغ دینے کے لیے پالیسیوں کا ایک پیکج ترتیب دیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا ہے کہ مالی و مالیاتی پالیسیوں کےتعاون کو مضبوط کرکے سروس انڈسٹری آپریٹرز اور انفرادی قرضوں کے لیے سود پر سبسڈی کی پالیسیوں کے نفاذ کو بہتر بنایا جائےگا تاکہ لوگوں کی کھپت کی صلاحیت کو بڑھایا جائے۔

چھوٹی اور مائیکرو انٹرپرائزز کے لیے قرض کے سود پر سبسڈی کی پالیسیوں کا نفاذ کرکے نجی سرمایہ کاری کے لیے مخصوص گارنٹی پلان قائم کیا جائےگا اورکاروباری اداروں کے لیے فنانسنگ کی شرائط اور لاگت کو مزید کم کیا جائےگا تاکہ لوگوں اور کاروباری اداروں کے فوائد کے احساس کو مضبوط بنایا جائے۔ اس اجلاس نے معاشی بحالی کے رجحان کو مستحکم کرنے اور اندونی محرکات کو فروغ دینے کا مضبوط اشارہ دیتے ہوئے میکرو اکنامک کنٹرول کے طریقوں کو جدت دینے اور ترقیاتی مسائل کو منظم طریقے سے حل کرنے کی اسٹریٹجک عقلمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس وقت چین کی معیشت میں سب سے نمایاں مسئلہ موثر سوشل ڈیمانڈ کے مزید فروغ کی ضرورت ہے۔ ایک طرف، لوگوں کی کھپت کی خواہشات نسبتاً محدود ہیں جبکہ دوسری طرف کاروباری اداروں، بالخصوص درمیانے درجے کی ، چھوٹی اور مائیکرو انٹرپرائزز کے لئے سرمایہ کاری کے اعتماد کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور ابھِی بھی انہیں پیداوار اور آپریشن میں متعدد طرح کے دباؤ کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں، سنگل پالیسی ٹول اکثر مارکیٹ کی قوت محرکہ کو مکمل طور پر فعال کرنے میں کافی ثابت نہیں ہوتا۔

مالی پالیسی “درستگی کے ساتھ آبپاشی” کی طرح کام کرتی ہے، جو مخصوص شعبوں اور گروپوں کو ٹارگٹڈ سپورٹ فراہم کرتی ہے، لیکن اسے فنڈز کی محدود دستیابی کا سامنا بھی ہوتا ہے ۔ مالیاتی نظام کے پاس کافی فنڈز ہوتے ہیں، لیکن بعض اوقات انہیں ان علاقوں میں مکمل طور پر منتقل کرنا مشکل ہوتا ہے جہاں حقیقی معیشت کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا، مالی و مالیاتی پالیسیوں کو “اکیلے لڑنے” سے “مشترکہ کام کرنے” کی طرف منتقل کرنا موجودہ ترقیاتی مسائل کو حل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ بن گیا ہے۔

دونوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کا مقصد پالیسی کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے “ون پلس ون ٹو سے زیادہ” جیسا “سنرجی افیکٹ” پیدا کرنا ہے، جس سے پالیسی سپورٹ کاروباری اداروں اور لوگوں تک مزید براہ راست اور مؤثر طریقے سے پہنچ سکے۔

موجودہ پالیسیوں پر عملدرآمد کا زور، واضح اور عملی ہے۔ کھپت بڑھانے کے بارے میں، اجلاس میں واضح کیا گیا ہے کہ انفرادی کھپت کے قرضوں کے لیے سود پر سبسڈی کی پالیسی کو بہتر بنانا جاری رکھا جائے گا، جس میں آٹوموبائل، گھریلوبرقی سازو سامان، گھر کی آرائش، ثقافت، سیاحت، صحت اور بزرگوں کی دیکھ بھال سمیت متعدد معاش کے شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا۔

یہ اس کے مترادف ہے کہ ریاست مالی سبسڈی کے ذریعے قرض کے کچھ سود کا بوجھ بانٹ کر لوگوں کی کھپت کی لاگت کو صحیح معنوں میں کم کرتی ہے اور پھر مالیاتی آلات کی مدد سے کھپت کی صلاحیت کو بڑھاتے ہوئے ، “خرچ کرنے کے خواہشمند ہونے” اور “خرچ کرنے کے قابل ہونے” سے لے کر” خرچ کے بہتر تجربے” تک، متعدد سطحوں پر مدد فراہم کرتی ہے۔

سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے حوالے سے، پالیسی نجی سرمایہ کاری اور درمیانے درجے کی، چھوٹی اور مائیکرو انٹرپرائززجیسے کلیدی اقتصادی ڈرائیورز پر توجہ مرکوز کرتی ہے اور قرضوں کے لئے سود پر سبسڈی اور خصوصی گارنٹی پروگراموں کے قیام جیسے اقدامات کے ذریعے انہیں بروقت مدد فراہم کرتی ہے تاکہ مارکیٹ کی توقعات کو مستحکم کیا جائے۔ یہ طریقہ کار ، جو بیک وقت کھپت اور سرمایہ کاری دونوں پر زور دیتا ہے اور مالی و مالیاتی آلات کو مربوط کرتا ہے، قلیل مدتی اور طویل مدتی اہداف میں توازن رکھنے کی عکاسی ہے۔

2025 کا جائزہ لیا جائے تو ٹریڈ انز کو سپورٹ کرنے کے لیے خصوصی ٹریژری بانڈز جاری کرنے سے لے کر انفرادی کھپت کے قرضوں کے لیے سود پر سبسڈی کی پالیسیاں متعارف کرانے تک، مالی و مالیاتی پالیسیوں کا تعاون شروع ہو گیا ہے، اور اس نے مثبت نتائج حاصل کیے ہیں جیسے کہ سوشل فنانسنگ اور کھپت کے کچھ شعبوں میں شرح نمو میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ریاستی کونسل کے اجلاس نے اس اسٹریٹجک نقطہ نظر کو ایک بار پھر مضبوط بنایا، جس کا مقصد معاشی بحالی کے رجحان کو مزید تقویت دینا ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان پالیسیوں کی تعیناتی ایک واضح مثبت گردش کی منطق پر مشتمل ہے: مالی و مالیاتی پالیسیوں کے تعاون کے ذریعے کاروباری اداروں اورلوگوں پر لاگت کے بوجھ کو کم کیا جائے،پھر مؤثر طریقے سے انٹرپرائزز کی سرمایہ کاری اور لوگوں کی کھپت کی خواہش کو متحرک کیا جائے، اور پھر روزگار کے مواقع میں اضافے سے لوگوں کی آمدنی کی توقعات میں اضافہ ہو جائے،یوں کھپت کی مزید وسعت اور سرمایہ کاری میں مزید اضافے کی حمایت کے باعث معاشی گردش مزید ہمواراور اندورنی محرکات کو مسلسل مضبوط بنایا جائےگا۔

جب مارکیٹ کے لاتعداد اداروں، بالخصوص درمیانے درجے کی، چھوٹی اور مائیکرو انٹرپرائزز جو کہ روزگار کے مواقع کو بڑھانے میں کلیدی قوتیں ہیں، کو دوبارہ فروغ ملے گا، تو روزگار کی ” بنیاد” زیادہ مستحکم ہوگی، اور آمدنی کے ذرائع کھپت کی منڈی کو مسلسل فروغ دیں گے۔ اس طرح معیشت کی پائیدار اور صحت مند ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی جائے گی۔

سال کا منصوبہ موسم بہار میں تیار کیا جاتا ہے، اور پہلی سہ ماہی پورے سال میں اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھنے کی کلیدی مدت ہوتی ہے۔ سال کے آغاز پر اس پالیسی پیکج کا فیصلہ کن اجراء، چینی حکومت کی فعال کوششوں اور معاشی بحالی کے مثبت رجحان کو مستحکم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ پالیسیوں اور اقدامات پر نفاذ کے ساتھ ساتھ، ہمیں یقین ہے کہ ان پالیسیوں کی تعیناتی 2026 میں چین کی معیشت کی “اچھی شروعات” کے لیے مضبوط مدد فراہم کرے گی، اور عملی طور پر چین کے میکرو کنٹرول کی حکمت اور تاثیر کو مزید ظاہر کرے گی بلکہ چینی طرز کی جدیدکاری کو آگے بڑھانے میں اہم قوت محرکہ فراہم کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں