بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)جہاز کے عرشے کا ڈیک آہستہ آہستہ کھلتا ہے اور ہزاروں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں، بغیر ڈرائیور کے، G5سگنلز اور چپ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، 0.1 میٹر کی درستگی کے ساتھ، بندرگاہ پر ایک دوسرے سے بالکل درست فاصلے پر رہتے ہوئے، ترتیب سے جہاز کے اندر داخل ہوتی ہیں۔
پورا عمل بغیر کسی انسانی مداخلت کے مکمل ہوتا ہے اور ہزاروں گاڑیوں کو لوڈ ،ان لوڈ کرنے کا عمل صرف 3 گھنٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے، جو روایتی دستی طریقہ کار سے 24 گنا زیادہ کارآمد ہے۔ یہ سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ چین کی نیو انرجی وہیکل جائنٹ “بی وائے ڈی “کے اپنے بڑے رول-آن/رول-آف جہازوں کی دنیا بھر کی مختلف بندرگاہوں پر روزمرہ کی سرگرمی ہے۔
جب اس طرح کے آٹھ “انٹیلی جینٹ موبائل گیراج” بین الاقوامی شپنگ لینز پر چلتے ہیں، تو بی وائے ڈی کا “اپنے جہاز خود بنا کر گاڑیاں ٹرانسپورٹ کرنے” کا منصوبہ محض لاجسٹکس کی بہتری سے آگے بڑھ کر، چینی مینوفیکچرنگ کی “مصنوعات کی برآمد” سے “ایکولوجی کی برآمد” میں تبدیلی کی علامت بن چکا ہے۔ اس کی بنیادی مسابقت کی طاقت لاگت، ٹیکنالوجی اور قواعد کی پیش رفت میں پوشیدہ ہے، جس نے عالمی صنعتی مسابقت کے بنیادی اصولوں کو نئے سرے سے تشکیل دیا ہے۔
سپر انڈسٹریل چین کا بنیادی اعتماد خودمختاری اور کنٹرول میں مضمر ہے، جس نے غیر ملکی ٹیکنالوجی کی بالادستی کے بحران کو حل کر کے لاگت اور کارکردگی میں دوہرا انقلاب برپا کیا ہے۔ اس سے قبل، چین کی گاڑیوں کی برآمدات طویل عرصے سے جاپانی اور کوریائی ” شپنگ جائنٹس ” کی اجارہ داری کا شکار تھیں۔ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کو “خطرناک سامان” قرار دیے جانے کی وجہ سے نہ صرف کرایہ 30 فیصد تک زیادہ تھا بلکہ سیزن کے دوان جہاز میں جگہ کے لیے تین ماہ تک انتظار کرنا پڑتا تھا۔
شپنگ صلاحیت کی کمی نے براہ راست کمپنیوں کے منافع کو متاثر کیا اور بیرونی منڈیوں کے مواقعوں سے محروم بھی کیا ۔ بی وائے ڈی نے اس مخالف صورت حال میں پیش قدمی کرتے ہوئے اپنے آٹھ ایل این جی ڈبل فیول رول-آن/رول-آف جہاز بنائے ہیں۔ “سامنے بندرگاہ، اور پیچھے فیکٹری” کے نفیس ڈیزائن کے ذریعے، گاڑیاں فیکٹری سے نکلنے کے صرف 5 منٹ بعد براہ راست بندہ گاہ پر پہنچ کر جہاز پر سوار ہو سکتی ہیں، جس سے یورپ کو ڈیلیوری کا وقت 60 دنوں سے کم ہو کر 35 دن رہ گیا ہے اور کارکردگی میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فی گاڑی ٹرانسپورٹ کا خرچ ایک تہائی کم ہو گیا ہے اور آٹھ جہازوں سے سالانہ بچت 5 ارب یوآن سے زیادہ ہے ۔ اس اقدام نے بی وائے ڈی کو لاگت میں ایک ناقابل تسخیر فائدہ فراہم کیا ہے اور بیرونی شپنگ جائینٹس کی اجارہ داری کو توڑ دیا ہے۔
مزکورہ مکمل خودکار لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے “جادوئی عمل” کے پیچھے ٹیکنالوجیز کے بین الضابطہ انضمام کی مضبوط صلاحیت کارفرما ہے۔ یہ جہاز محض ٹرانسپورٹ کے ذرائع نہیں ہیں بلکہ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے خاص طور پر تیار کردہ انٹیلی جنٹ شپنگ آلات ہیں۔ ان میں خودکار ڈرائیور کے بغیر لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے نظام کے علاوہ، جہاز پر 1300 سے زیادہ درجہ حرارت کے سینسر اور خصوصی فائر فائٹنگ سسٹم نصب ہیں جو سفر کے دوران بیٹری کی حالت کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں،
جس سے نئی توانائی کی گاڑیوں کی نقل و حمل کے خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور روایتی جہازوں کے لیے بڑے پیمانے پر نئی توانائی کی گاڑیوں کے آرڈرز لینے کی صنعتی مشکلات کو مکمل طور پر حل کر دیا گیا ہے۔ گاڑیاں بنانے سے لے کر جہاز بنانے تک، بی وائے ڈی نے کلیدی ٹیکنالوجی کو ایک شعبے سے دوسرے شعبے میں منتقل کرنے کا ہنر حاصل کیا ہے، جو “ورٹیکل انٹیگریشن “کے ماڈل کی تصدیق کرتا ہے ، جس میں آٹوموبائل مینوفیکچرنگ، انٹیلی جنٹ کنٹرول، اور گرین شپنگ جیسے مختلف مراحل کی ٹیکنالوجیز ہم آہنگ نظر آتی ہیں ۔
اس سے بھی زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ بی وائے ڈی اور چائنا شپ بلڈنگ کارپوریشن کی مشترکہ قیادت میں تیار کردہ “نیو انرجی وہیکل رول-آن/رول-آف ٹرانسپورٹ سیفٹی اسٹینڈرڈز” کو انٹرنیشنل شپنگ ایسوسی ایشن کی گائیڈ لائنز میں شامل کر لیا گیا ہے، جو عالمی شپنگ انڈسٹری میں کسی چینی آٹومیکر کی جانب سے تیار کردہ پہلے معیارات بن گئے ہیں۔
اس انڈسٹریل چین کی صلاحیت کی گہری قدر کمپنی کی اپنی ترقی سے کہیں آگے ہے اور اس نے چینی مینوفیکچرنگ کے لیے بیرونی منڈیوں میں جانے کا ایک نیا ماڈل فراہم کیا ہے۔ بی وائے ڈی کے اس اقدام نے “آٹو میکر صرف گاڑیاں بناتے ہیں” کے روایتی خیال کی نفی کرتے ہوئے “لیتھیم کی کان – بیٹری – مکمل گاڑی – شپنگ – اور بیرونی آپریشنز” کا مکمل” کلوز ایکولوجی ” نظام قائم کیا ہے اور سپلائی چین کی مضبوطی کو حقیقی مارکیٹ کی مسابقت میں تبدیل کر دیا ہے۔ ” خود مختاری اور کنٹر ول “کا یہ مکمل چین سسٹم ماڈل نہ صرف آٹوموٹو انڈسٹری کے لیے موزوں ہے بلکہ فوٹووولٹک، انرجی اسٹوریج جیسے ہائی اینڈ مینوفیکچرنگ شعبوں کے لیے قابل تقلید راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔
بی وائے ڈی نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ حقیقی بنیادی مسابقت کسی ایک شعبے میں برتری میں نہیں بلکہ پوری انڈسٹریل چین میں ہم آہنگی، کنٹرول اور جدت و تخلیق میں مضمر ہے۔ جب “BYD” کے نشان سے سجے بڑے جہاز دنیا بھر کی مختلف بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوتے ہیں، تو اس کے پیچھے چینی مینوفیکچرنگ کے پیمانے کے فائدے سے لے کر ٹیکنالوجی کے فائدے، اور مصنوعات کی برآمد سے لے کر ایکولوجی کی برآمد میں تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے۔








