11

چین کی سوشل لاجسٹکس کا حجم جنوری سے مئی کے دوران 146 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چائنا فیڈریشن آف لاجسٹکس اینڈ پرچیزنگ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس سال جنوری سے مئی تک چین میں سوشل لاجسٹکس کی کل مالیت 146.6 ٹریلین یوآن تک جا پہنچی ہے، جو کہ سال بہ سال 5.2 فیصد کا اضافہ ہے۔ ان میں، صنعتی مصنوعات کی لاجسٹکس کی کل مالیت میں سال بہ سال 5.4 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔

ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ سے متعلق لاجسٹکس کی طلب میں سال بہ سال 15.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آلات کی تیاری سے متعلق لاجسٹکس کی طلب میں سال بہ سال 9.5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جنوری سے مئی تک، لاجسٹکس انڈسٹری کی کل آمدنی 5.8 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی، جو کہ سال بہ سال 4.2 فیصد کا اضافہ ہے۔ لاجسٹکس صنعت کی خوشحالی کے معیار میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ جنوری سے مئی تک چین کی لاجسٹکس انڈسٹری کے خوشحالی انڈیکس کی اوسط قدر جنوری سے اپریل کے مقابلے میں 0.1 فیصد پوائنٹس زیادہ رہی۔ مجموعی طور پر، کنزیومر لاجسٹکس کی ترقی برقرار رہی، بالخصوص ڈیجیٹل کھپت میں تیزی سے ترقی ہوئی۔

درآمدی لاجسٹکس کے حوالے سے اگرچہ مجموعی شرح نمو میں کچھ سست روی آئی، لیکن کارگو کا ڈھانچہ مسلسل اعلیٰ معیار اور جدید ٹیکنالوجی کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ مربوط سرکٹس ، سیمی کنڈکٹر ڈیوائسز اور دیگر جدید مینوفیکچرنگ درآمدات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، اور صنعتی اپ گریڈنگ کے لیے درآمدی لاجسٹکس کی مانگ نے مضبوط لچک دکھائی۔ مزید برآں، جنوری سے مئی تک ری سائیکل شدہ وسائل کی لاجسٹکس کے حجم میں سال بہ سال 5.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔ لیتھیم آئن بیٹریاں، بائیو بیسڈ کیمیکل فائبرز، کاربن فائبرز اور کمپوزٹ مٹیریل جیسی سبز مصنوعات سے متعلق لاجسٹکس کے حجم میں بالترتیب سال بہ سال 40.0 فیصد، 18.1 فیصد اور 13.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں