بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)چین کی ریاستی کونسل کے انفارمیشن آفس نے “ایک ملک، دو نظام” کے تحت ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے تحفظ کی عملی پیش رفت کے عنوان سے وائٹ پیپر جاری کر دیا۔منگل کے روز وائٹ پیپر میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ “ایک ملک، دو نظام” پالیسی کا اعلیٰ ترین اصول ہے۔ ہانگ کانگ کی صورت حال میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں، مرکزی حکومت نے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں قومی سلامتی کے تحفظ سے متعلق قانون مرتب کر کے نافذ کیا، جس کے ذریعے قانون کے مطابق قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کی مؤثر روک تھام، انسداد اور سزا کو یقینی بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں ہانگ کانگ استحکام سے خوشحالی کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور ایک روشن مستقبل کا مظہر بن کر سامنے آیا ہے۔
وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے تحفظ کی یہ عملی پیش رفت دراصل”ایک ملک، دو نظام” کو برقرار رکھنے اور اسے فروغ دینے کی عملی مثال ہے، یہ 75 لاکھ ہانگ کانگ کے باشندوں کے بنیادی انسانی حقوق، وقار اور فلاح و بہبود کے تحفظ کی عملی صورت ہے، اور ساتھ ہی عالمی امن و ترقی کے فروغ میں بھی ایک مثبت کردار ادا کرتی ہے۔
وائٹ پیپر میں مزید کہا گیا ہے کہ اعلیٰ سطحی سلامتی کے ساتھ ہانگ کانگ یقیناً “ایک ملک، دو نظام” کے فوائد کو بھرپور طور پر بروئے کار لائے گا، قومی ترقی کے مجموعی عمل میں بہتر طور پر ضم ہو کر خدمات انجام دے گا، اور ایک مضبوط ملک کی تعمیر اور قومی نشاۃِ الثانیہ کے عظیم مقصد میں نئی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے مزید نمایاں خدمات سرانجام دے گا۔









