بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) اس سال کی پہلی تین سہ ماہیوں کے لیے چین کے سرکاری درآمدات اور برآمدات کے اعداد و شمار جاری کئے گئے۔ چین کی اشیا کی درآمدات وبرآمدات 39.94 ٹریلین یوآن تک پہنچیں، جو کہ سال بہ سال 18.8 فیصد کا اضافہ ہے۔ جس میں برآمدات میں 16.4 فیصد اور درآمدات میں 22.3 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر چین کی درآمدات اور برآمدات میں ترقی کا عمدہ رجحان برقرار رہاہے۔
چین کی بیرونی تجارت کے دباؤ کے باوجود آگے بڑھنے کی وجہ کیا ہے؟ ایک طرف، چین کی صنعتی جدت طرازی عالمی ترقی کی ضروریات سے منسلک ہے اوریوں اختراعی ثمرات اعلیٰ معیار کی فراہمی میں تبدیل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف، چین کی انتہائی بڑی مارکیٹ کے اثرات کی بدولت تمام ممالک کے لیے چین کے مواقعوں کو بانٹنے کے حالات پیدا ہوتے ہیں۔ چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے پہلے سال میں پہلی تین سہ ماہیوں میں چین کی درآمدات اور برآمدات میں اچھی نمو کا حصول دنیا کو کیا پیغام دیتا ہے ؟
برآمدات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو چین اپنے مکمل صنعتی نظام اور جدید مینوفیکچرنگ کے ساتھ، عالمی پیداوار اور کھپت کے مطالبات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے، اعلیٰ معیار اور مستحکم سپلائی فراہم کرنے اورمتعلقہ ممالک کی صنعتی ترقی کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے قابل ہے۔ دوسری جانب، چین مسلسل 17 سالوں سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی درآمدی مارکیٹ رہا ہے، جس نے تمام ممالک کی کمپنیوں کو مزید آرڈرز اور ترقی کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ رواں سال کی پہلی تین سہ ماہیوں میں، چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری والے اداروں کی درآمدات اور برآمدات کے حجم میں سال بہ سال 19 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جو تاریخ کی اسی مدت کے لیے ایک نیا ریکارڈ ہے۔
بیرونی تجارت کی ترقی کی بڑھتی ہوئی توانائی اور قوت یہ ظاہر کرتی ہے کہ چین کی طویل مدتی اقتصادی ترقی کی بنیاد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور چین اپنے سالانہ اقتصادی و سماجی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کا مکمل اعتماد رکھتا ہے۔









