چین 55

چین میں عملی کارکردگی کو ترجیح دینے کا رجحان، ترقیاتی اہداف کے حصول کی بنیاد قرار

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) حالیہ عرصے میں چین میں “درست طرزِ حکمرانی اور کارکردگی” کا تصور ایک نمایاں موضوع کے طور پر ابھرا ہے۔ اس تصور کے تحت حقیقی کارکردگی کو محض اعداد و شمار کے بجائے عوامی فلاح و بہبود اور زمینی حقائق سے جانچا جا رہا ہے۔ یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کے ذریعے چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی آف چائنا طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں کو عملی شکل دے رہی ہے۔

چین میں متعدد ایسے منصوبے ہیں جن کی تکمیل قلیل مدت میں ممکن نہیں تھی، جیسے کہ صحراؤں سے نمٹنا، آبی وسائل کا مؤثر انتظام اور دیہی ترقی۔ تین نسلوں پر محیط کئی دہائیوں کی مسلسل محنت کے نتیجے میں 6000 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلا کُوبوچی صحرا سرسبز ہو چکا ہے۔ اسی طرح صوبہ زے جیانگ میں 2003 میں شروع ہونے والا “دیہی ترقیاتی منصوبہ” دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ہے، جس کے تحت صفائی، نکاسیٔ آب، دیہی سڑکوں کی تعمیر اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے اقدامات مرحلہ وار مکمل کیے گئے۔

چین میں حکومتی کارکردگی کا معیار حکام کے دعووں سے نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں آنے والی بہتری سے متعین کیا جاتا ہے۔ مثلاً من جیانگ دریا کے کنارے رہنے والے شہری اب تفریحی راستوں پر چہل قدمی کر سکتے ہیں، جبکہ کُوبوچی کے مقامی افراد پودوں اور جڑی بوٹیوں کی کاشت کے ذریعے اپنی روزی کما رہے ہیں۔ اسی طرح ماضی کے غریب دیہات آج سیاحت کے فروغ کے باعث معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن چکے ہیں۔

یہ تمام مثالیں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ چین میں ترقی کا عمل محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ مسلسل عملی اقدامات کے ذریعے عوامی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے پر مبنی ہے، اور یہی طرزِ عمل بڑے قومی منصوبوں کو حقیقت میں بدلنے کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں