رپورٹ 16

چین عالمی حکمرانی کے عملی نفاذ کو فروغ دینے کے لیے کام جاری رکھے گا، رپورٹ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) ستمبر 2025 میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی تجویز کے بعد سے تقریباً 160 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے فوری طور پر اس کی حمایت کی ،جبکہ 60 سے زائد ممالک نے “فرینڈز آف گلوبل گورننس گروپ” میں فعال طور پر شمولیت اختیار کی۔اس وسیع حمایت کی وجہ کیا ہے؟ چینی حکام نے” زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کے نظام کی تشکیل: چین کے تصورات، تجاویز اور اقدامات ” کے عنوان سے وائٹ پیپر جاری کیا جس میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے۔

وائٹ پیپر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے ، اور اس کے کردار کو صرف مضبوط کیا جا سکتا ہے، کمزور نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ، گلوبل گورننس انیشی ایٹو کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور اقوام متحدہ کے اختیار اور وقار کے تحفظ کے حوالے سے اکثریتی ممالک کی مشترکہ توقعات سے ہم آہنگ ہے۔

گلوبل ساؤتھ کا عروج موجودہ دور کا ایک ناقابل واپسی رجحان بن چکا ہے، لیکن اسے طویل عرصے سے عالمی حکمرانی کے نظام میں مناسب نمائندگی نہیں مل سکی۔ “عظیم برکس” اور “ایس سی او خاندان” کے درمیان اعلیٰ معیار کے تعاون کو فروغ دینے سے لے کر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک جیسے اداروں میں اصلاحات کی وکالت تک، چین نے مسلسل جنوبی ممالک کی بین الاقوامی امور میں بڑھتی ہوئی اہمیت کو ترجیح دینے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور آواز کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بین الاقوامی ثالثی تنظیم کے قیام سے لے کر “گلوبل اے آئی گورننس انیشی ایٹو” کی تجویز پیش کرنے تک، اور علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں مصالحتی کوششوں تک، چین نے ہمیشہ عالمی حکمرانی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل پلیٹ فارمز بنائے، عملی تجربات پیش کیے، اور قابلِ تقلید مثالیں قائم کیں۔

گلوبل گورننس انیشی ایٹو بین الاقوامی برادری کی مشترکہ فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے اور اس کی کامیابی بھی تمام ممالک کی مشترکہ کوششوں سے وابستہ ہے۔ چین دیگر ممالک کے ساتھ مل کر عالمی حکمرانی کے عملی نفاذ کو فروغ دینے کے لیے کام جاری رکھے گا، تاکہ گلوبل گورننس کا نظام زیادہ منصفانہ، متوازن اور موثر بنایا جا سکے اور تمام ممالک اس سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں