روس 17

چین جدت طرازی کی صلاحیت میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے ، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کی ریاستی کونسل کے دفترِ اطلاعات میں منعقدہ پریس کانفرنس میں وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی یِن حہ جون نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران چین کی سائنسی و تکنیکی جدت طرازی نے نئی بلندی حاصل کی ہے اور سائنس و ٹیکنالوجی میں مضبوط ملک کی تعمیر میں ٹھوس پیش رفت ہوئی ہے، جس سے اعلیٰ معیار کی ترقی اور عوامی زندگی میں بہتری کے لیے مؤثر معاونت فراہم ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2025 میں چین میں سماجی سطح پر تحقیق و ترقی کے لیے مجموعی سرمایہ کاری 3.92 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گئی، جو جی ڈی پی کا 2.8 فیصد رہی اور پہلی مرتبہ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم کے رکن ممالک کی اوسط سطح سے زیادہ ہو گئی ہے۔ پی سی ٹی بین الاقوامی پیٹنٹ درخواستوں اور اعلیٰ معیار کے بین الاقوامی تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالوں کی تعداد مسلسل کئی برسوں سے دنیا میں پہلے نمبر پر رہی ہے۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فار ڈیولپمنٹ کی “قومی انوویشن انڈیکس رپورٹ 2025” کے مطابق چین کی قومی جدت طرازی کی مجموعی صلاحیت عالمی سطح پر نویں نمبر پر ہے۔ چین عالمی سائنس و ٹیکنالوجی میں محض ایک شریک اور معاون ملک سے تیزی سے ایک علمبردار اور رہنما کی حیثیت اختیار کر رہا ہے اور جدت طرازی کی صلاحیت میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں