بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)چین اور سیشلز کے درمیان سفارتی تعلقات کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر، سیشلز کے صدر پیٹرک ہرمینئی نے سی ایم جی کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔
ہفتہ کے روز پیٹرک ہرمینئی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ چین اور سیشلز کے تعلقات نصف صدی پر محیط ہیں۔ طویل عرصے سے چین نے استعداد کار میں اضافے اور اہلکاروں کی تربیت جیسے متعدد شعبوں میں ہماری بھرپور مدد کی ہے، اور سیشلز کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی کلیدی تعاون فراہم کیا ہے۔ سیشلز اس پر تہہ دل سے مشکور ہے اور ہمیں امید ہے کہ دونوں فریق باہمی فائدے اور مشترکہ کامیابی کے حصول کے لیے اسی طرح کندھے سے کندھا ملا کر چلتے رہیں گے۔
انہوں نے چین کی ترقیاتی کامیابیوں پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج چین بہت سے شعبوں میں انتہائی ترقی یافتہ ہے، خاص طور پر ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں۔ سیشلز ان شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کا منتظر ہے تاکہ چین کی مہارت اور عملی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیشلز کی ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے۔ موجودہ عالمی ڈیجیٹل انقلاب کی لہر کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے یہ ایک ناگزیر انتخاب ہے۔
پیٹرک ہرمینئی نے صدر شی جن پھنگ کے پیش کردہ بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے تصور اور چار عالمی اقدامات کو بھی بھرپور سراہا۔ انہوں نے کہا کہ میں ان اقدامات کی مکمل تائید کرتا ہوں کیونکہ یہ محاذ آرائی کے بجائے تعاون، تقسیم کے بجائے اتحاد، اور ‘زیرو سم گیم’کے بجائے باہمی فائدے اور جیت کی ترغیب دیتے ہیں۔









