شی جن پھنگ 13

چین اور جرمنی کے لیے اسٹریٹجک رابطوں کو مضبوط بنانا زیادہ ضروری ہو گیا ہے، چینی صدر

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کے صدر شی جن پھنگ سے بیجنگ میں چین کے سرکاری دورے پرموجود جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے ملاقات کی۔ بدھ کے روز اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے چین۔جرمنی تعلقات، چین۔یورپ روابط اور عالمی و علاقائی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات جوں جوں پیچیدہ اور غیر یقینی ہوتے جا رہے ہیں، چین اور جرمنی کے لیے اسٹریٹجک رابطوں کو مضبوط بنانا اور باہمی اعتماد میں اضافہ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو ہمہ جہت اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم اور پائیدار بنانا چاہیے۔

صدر شی جن پھنگ نے واضح کیا کہ چین اور جرمنی کو ایک دوسرے کے قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جرمنی چین کی ترقی کو معروضی اور معقول انداز میں دیکھتے ہوئے چین کے بارے میں مثبت اور عملی پالیسی اپنائے گا، تاکہ دوطرفہ تعلقات استحکام اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک مسابقت اور تعاون کے تعلق کو درست تناظر میں سمجھیں، باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی کے راستے تلاش کریں اور صنعتی و سپلائی چین کے استحکام اور تسلسل کو برقرار رکھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے عوامی اور ثقافتی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ دونوں اقوام کے درمیان باہمی فہم اور قربت میں اضافہ ہو۔

صدر شی جن پھنگ نے اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ چین اور جرمنی کو کثیرالجہتی نظام، بین الاقوامی قانون کی حاکمیت اور آزاد تجارت کے تحفظ میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چین یورپ کی خود مختاری اور مضبوطی کی حمایت کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ یورپ بھی چین کے ساتھ مل کر چین۔یورپ تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے اس موقع پر کہا کہ جرمنی چین کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایک چین کی پالیسی پر ثابت قدمی سے قائم ہے۔ انہوں نے باہمی احترام اور کھلے تعاون کی بنیاد پر دوطرفہ ہمہ جہت اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور یورپ و چین کے درمیان مکالمے اور تعاون کے فروغ کی حمایت کی۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے یوکرین بحران سمیت دیگر اہم عالمی مسائل پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ بعد ازاں فریقین کی جانب سے عوامی جمہوریہ چین اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں