بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے دارالسلام میں تنزانیہ کے وزیر خارجہ محمود تابعت کمباؤ کے ساتھ بات چیت کی۔
ہفتہ کے روز انہوں نے کہا کہ یہ دورہ چینی وزیر خارجہ کا نئے سال کے موقع پر افریقہ کا 36واں مسلسل پہلا دورہ ہے، جو دنیا کو واضح طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ چین اور افریقہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں ۔ چین نے ہمیشہ جنوب-جنوب تعاون کے تناظر میں افریقہ کے ساتھ تعاون کو ایک دوسرے کی حمایت اور مدد کے طور پر دیکھا ہے، اور چین افریقہ کے ساتھ مشترکہ ترقی اور نئے دور میں ہمہ موسمی چین افریقہ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کا خواہاں ہے۔تنزانیہ۔زیمبیا ریلوے چین اور افریقہ کی دوستی کی علامت ہے اور دونوں فریقوں کے تعاون کا ایک یادگار منصوبہ بھی ہے۔
فریقین کو اس ریلوے کی تجدید کے امور کو مشترکہ طور پر بہتر انداز سے انجام دینا چاہیے، تاکہ ایک خوشحال تنزانیہ۔زیمبیا ریلوے زون کی تعمیر کی جاسکے جو تنزانیہ کی جامع ترقی اور مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود میں مددگار ثابت ہو، اور چین۔افریقہ تعاون کی ایک مثال بنے۔ چین اور تنزانیہ کو گلوبل ساؤتھ ممالک کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار اور بین الاقوامی قانون کے اختیار کا تحفظ کرنے، کثیر الجہتی نظام کی مضبوط حمایت، ایک زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی نظام حکمرانی کے قیام اور ترقی پذیر ممالک کے وسیع جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کوشش کرنی چاہیے۔
کمباؤ نے کہا کہ وہ چین کی جانب سے تنزانیہ سمیت تمام افریقی ممالک کو طویل عرصے سے فراہم کردہ بے لوث مدد اور فراخدلانہ تعاون پر مشکور ہیں۔ چین-تنزانیہ تعلقات چین-افریقہ تعاون کی مثال ہیں۔تنزانیہ-زیمبیا ریلوے تجدید کا منصوبہ علاقائی روابط اور اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا۔ تنزانیہ ایک چین کے اصول پر کاربند ہے اور تنزانیہ-چین جامع اسٹریٹجک تعاون شراکت داری کی ترقی کے لیے پرعزم ہے اور امید کرتا ہے کہ تنزانیہ افریقہ کے لیے چین کی زیرو ٹیرف پالیسیوں سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔
تنزانیہ صدر شی جن پھنگ کے تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چاروں گلوبل انیشی ایٹوز کی حمایت کرتا ہے اور چین کے ساتھ چین-افریقہ تعاون فورم فریم ورک کے تحت تعاون کو گہرا کرنے، کثیر الجہتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی انصاف، ترقی اور خوشحالی کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر کوششوں کا خواہاں ہے۔









