لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافے، برآمدات میں ریکارڈ کمی اور درآمدات میں خطرناک حد تک اضافے کے باعث ملک بھر میں 300 سے زائد ٹیکسٹائل ملیں اور کاٹن جننگ فیکٹریاں غیر فعال ہو چکی ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے نہایت تشویشناک صورتحال ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مقابلے میں پاکستانی کاٹن انڈسٹری کے لیے بجلی، گیس اور بینکوں کے مارک اپ کی شرحیں سب سے زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے مقامی صنعت عالمی منڈی میں مقابلے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہے۔سودی معاشی نظام کو ختم کرنا وقت کا تقاضا ہے۔محمد جاوید قصوری کا کہنا تھا کہ بجلی اور گیس کے مہنگے نرخوں کے ساتھ ساتھ کئی اقسام کے بھاری ٹیکسز اور قومی و صوبائی محکموں کی صنعتوں میں بے جا مداخلت نے پیداواری لاگت کو ناقابل برداشت حد تک بڑھا دیا ہے۔
اس کے نتیجے میں ملکی کاٹن مصنوعات کی برآمدات میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے اور کاٹن انڈسٹری اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملکی معیشت مزید کمزور ہو جائے گی اور لاکھوں محنت کش بے روزگار ہو سکتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ صرف گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 96 جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، جو موجودہ حکمرانوں کی بدترین معاشی کارکردگی کا کھلا ثبوت ہے۔
حکومت ہر محاذ پر بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور تاجر برادری مسلسل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ صنعتکاروں کو نہ تو پالیسیوں میں استحکام میسر ہے اور نہ ہی کوئی واضح روڈ میپ دیا جا رہا ہے جس سے وہ مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکیں۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ ملک کے تقریباً ہر ادارے میں کرپشن انتہا کو پہنچ چکی ہے، عوام کی کہیں شنوائی نہیں اور عام آدمی بدحالی کا شکار ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ حکومت صرف بیانات اور دعووں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔






