لاہور(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر و سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف قانون کی حکمرانی کےلئے کھڑی ہے، موجودہ حکمران آئین کے مطابق فیصلے کرنے والے ججوں کے خلاف مہم شروع کردیتے ہیں،بار ایسوسی ایشن کا کردار بہت اہم ہے ،بار ایسوسی ایشن کو چاہیے کہ حکومت اور اپوزیشن پر چیک اینڈ بیلنس رکھے ،حکومت پاکستان نے فنانس بل کو 61قومی اسمبلی کے ممبران کے ذریعے منظور کیا ، قومی اسمبلی میں بل پر بحث نہیں کروائی گئی،آئین کہتا ہے کہ فنانس بل پر 15دن قومی اسمبلی میں بحث ہوگی۔
جمعرات کے روزمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر پاکستان تحریک انصاف و سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ عدلیہ سے امید ہے کہ آئین کا ساتھ دے ، موجودہ حکمران ان ججوں کے خلاف مہم شروع کرتے ہیں جو آئین کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں،اللہ کا شکرہے کہ ہمارے پاس ایسے افراد موجود ہیں جو نتائج کی پرواہ کئے بغیر آئین کا ساتھ دیتے ہیں،گزشتہ روز ہم نے 200افراد کی گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا تھا،700لوگوں نے گرفتاری دے دی،300لوگوں کوکیمپ جیل میں رکھا گیاجبکہ81لوگوں کو کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کیا گیا،بار ایسوسی ایشن کا کردار بہت اہم ہے ،عامرسعیدراں کو اغوا کیا گیا کسی نے بات نہیں کی،بار ایسوسی ایشن کو چاہیے کہ حکومت اور اپوزیشن پر چیک اینڈ بیلنس رکھے ، آج پاکستان تحریک انصاف قانون کی حکمرانی کےلئے کھڑی ہے،
حکومت پاکستان نے فنانس بل کو 61قومی اسمبلی کے ممبران کے ذریعے منظور کیا جو کہ کورم کی تعداد سے بھی کم تھا،80ممبران کا بل منظور کرنے کے حق میں ووٹ دینا ضروری ہے،جو کہ حکومت نے غیر آئینی طورپر 61ممبران سے منظور کروایا،آئین کہتا ہے کہ فنانس بل پر 15دن قومی اسمبلی میں بحث ہوگی،پھر سینیٹ بھیجا جائے گا،انہوں نے قومی اسمبلی میں بل پر بحث نہیں کروائی، موجودہ حکومت کے دور میں مہنگائی اور بیروزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوا،20ہزار سے لے کر پونے دو لاکھ روپے تک ماہانہ آمدنی کرنے والا انسان بھی پریشان ہے،موجودہ حکومت کو عوام کی بھلائی کےلئے اقدامات کرنے چاہیئں۔









