پیٹرولیم ڈویژن 182

پی اے سی کا پیٹرولیم ڈویژن کیلئے جاری گرانٹ سے12 ارب روپے لیپس پر تحفظات کا اظہار

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)پارلیمنٹ کی ذیلی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کے لیئے جاری شدہ گرانٹ میں سے12 ارب روپے لیپس ہونے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے معاملے پر سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقی کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیاجبکہ پیٹرولیم ڈویژن کو سسٹم بہتر بنانے کی ہدایت کی،کمیٹی نے مختلف آڈٹ اعتراضات پر دوبارہ محکمانہ اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی۔

بدھ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر کمیٹی نوید قمر کی صدارت میں ہوا جس میں پیٹرولیم ڈویژن کےآڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا جبکہ پیٹرولیم ڈویژن کی 2017-18 اور 2018-19 کی گرانٹس کا بھی جائزہ لیا گیا،اےجی پی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 12 ارب کی گرانٹ لیپس ہوئی،کنوینر کمیٹی نوید قمر نے استفسار کیا کہ سپلیمنٹری گرانٹ آپ نے کب لی؟متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پیسے تب جاری ہوئے جب الیکشن کمیشن نے اسکیموں پر پابندی لگائی، نوید قمر نے کہا کہ وزارت خزانہ کیا چاہ رہی تھی کہ پیسے استعمال ہوں یانہ ہوں؟

پلاننگ نے تو آپ کو پیسے ٹرانفسر کیئے، حکومت نے چاہا اسکیمیں تکمیل کی طرف جائیں، پیٹرولیم ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ رقم کمپنیوں کےاکاﺅنٹس میں نہیں ڈال سکتے تھے، کنوینر کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ یہ پیسے کیوں لیتے ہیں،پیسے لیپس کروانے کےلیئے لیتے ہیں؟ آپ نے انہیں بتایا کہ پیسے نہ بھیجیں، انہوں نے زبردستی بھیج دیئے؟ سب چاہ رہے تھے کہ کچھ بھی نہ ہو؟ یہ مذاق ہے،اس کا حل کیا ہے، کمیٹی نے معاملہ موخر کرتے ہوئے سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقی اور سیکرٹری خزانہ کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔

اے جی پی آر حکام نے کمیٹی کو ایک اور گرانٹ کے بارے میں بتایا کہ گرانٹ کے پانچ اعشاریہ ایک ارب روپے لیپس ہوئے، کنوینر کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ آپ نےاتنے پیسے لیئے ہی کیوں؟ نوید قمر نے کہا کہ آدھا گردشی قرضہ اسی لیئے ہوتا ہے کہ وقت پر ادائیگیاں نہیں ہوتیں،سسٹم کو بہتر کرنا ہو گا،جو ٹھیک ہو سکتا ہے اس کو تو ٹھیک کریں۔ کمیٹی نے نے مختلف آڈٹ اعتراضات پر دوبارہ محکمانہ اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں