پاکستان اسپورٹس بورڈ 54

پی ایس بی نے 3 یوم میں جواب نہ دینے پر پاکستان نیٹ بال فیڈریشن شوکاز نوٹس جاری کر دیا

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے ایشین یوتھ نیٹ بال چیمپئن شپ 2025 کے نتائج کے بارے میں گمراہ کن دعوے کا 72 گھنٹوں میں جواب نہ دینے پرپاکستان نیٹ بال فیڈریشن کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔

ترجمان پی ایس بی خرم شہزاد کے مطابق پاکستان سپورٹس بورڈ نے 13 جولائی 2025 کو پاکستان نیٹ بال فیڈریشن کو ایشین یوتھ نیٹ بال چیمپئن شپ 2025 میں پاکستان یوتھ گرلز ٹیم کی ”پہلی پوزیشن”کے دعوے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان نیٹ بال فیڈریشن (پی این ایف) سے تین روز میں وضاحتی جواب طلب کیا تھا۔ تاہم مقررہ وقت تک فیڈریشن کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

جمعہ کو پی ایس بی کی جانب سے مذکورہ فیڈریشن کے خلاف کارروائی کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے شوکاز (اظہار وجوہ کا) نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ مقررہ وقت گزرنے کے باوجود آپ کی جانب سے کوئی وضاحت موصول نہیں ہوئی، جو نہ صرف سرکاری مراسلت اور جوابدہی سے دانستہ چشم پوشی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس خاموشی کو اعراف سمجھا جاسکتا ہے۔شوکاز نوٹس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ 9 جولائی کو نیٹ فیڈریشن کی جانب سے پی ایس بی کو بھجوائے گئے خط میں غلط طور پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان یوتھ گرلز نیٹ بال ٹیم نے جنوبی کوریا کے شہر جیونجو میں منعقدہ ایشین یوتھ نیٹ بال چیمپئن شپ 2025 میں پہلی پوزیشن حاصل کی، حالانکہ سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان نے چھٹی پوزیشن حاصل کی۔

اس کے باوجود کہ آپ بخوبی آگاہ تھے کہ نقد انعامات کی پالیسی صرف تمغہ جیتنے والی ٹیموں تک محدود ہے، آپ کی فیڈریشن نے اس پالیسی کے تحت نقد انعام کا باقاعدہ مطالبہ کیا۔ یہ غلط بیانی ٹیلی ویڑن انٹرویوز اور عوامی بیانات کے ذریعے بھی پھیلائی گئی، جن میں پاکستان نیٹ بال فیڈریشن کے چیئرمین، مدثر رزاق آرائیں نے عوامی طور پر گولڈ میڈل جیتنے کا دعویٰ کیا اور عوام و متعلقہ فریقین کو دانستہ گمراہ کیا۔شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ نیٹ بال فیڈریشن کے یہ اقدامات پی ایس بی کے آئین کے قاعدہ 21(1)(vi) اورپاکستان کوڈ آف ایتھکس اینڈ گورننس اِن اسپورٹس کے کلاز 5(1)(vi) کی صریحا خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتے ہیں، جو کہ فیڈریشنز کو درست اور بروقت معلومات کی فراہمی کا پابند اور اختیار کے ناجائز استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ اس غلط بیانی کے ذریعے نقد انعام اور سرکاری سطح پر اعتراف کا دعویٰ کیا گیا، جو نہ صرف اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی ہے بلکہ آپ کی فیڈریشن پر کیے گئے اعتماد کی بھی خلاف ورزی ہے۔شوکاز نوٹس میں ہدایت دی گئی کہ اس نوٹس کے اجرا کی تاریخ سے سات (07) دن کے اندر تحریری طور پر وضاحت پیش کریں کہ کیوں نہ پاکستان نیٹ بال فیڈریشن پر اس سنگین خلاف ورزی کے باعث ایک (01) ملین روپے ( دس لاکھ روپے) جرمانہ عائد کیا جائے۔ مقررہ مدت میں جواب نہ دینے کی صورت میں یک طرفہ کارروائی کی جائے گی اور معاملہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے آئین اور پاکستان کوڈ آف ایتھکس اینڈ گورننس اِن سپورٹس کے تحت مزید تادیبی اور مالی اقدامات کیلئے بورڈ کے روبرو پیش کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں