کراچی (رپورٹنگ آن لائن)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت انسدادِ پولیو کے صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس نے وزیر اعلی ہاس یں منعقد ہوا، جس میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مہم کو مزید مثر بنانے کے لیے اقدامات کا حکم دیا گیا۔ اجلاس میں وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب، کمشنر کراچی حسن نقوی، ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو، سیکریٹری ٹو سی ایم عبدالرحیم شیخ، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر وقار میمن، یونیسف، ڈبلیو ایچ او اور روٹری انٹرنیشنل کے نمائندے، ای او سی کوآرڈینیٹر شہریار گل اور کراچی کے تمام ڈپٹی کمشنرز شریک ہوئے۔
دیگر ڈویژنوں کے کمشنرز، ڈی سیز، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے۔ماحولیاتی نگرانی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ای او سی کے مطابق نومبر میں کراچی کے 12 میں سے 10 اور دیگر ڈویژنوں کے 17 میں سے 11 مقامات سے پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل اور ای او سی کوآرڈینیٹر شہریار میمن نے وزیراعلی سندھ کو قومی و صوبائی صورتحال پر بریفنگ دی۔اجلاس میں وبائی صورتحال، ماحولیاتی نگرانی، اضلاع کی کارکردگی، فرنٹ لائن کارکنوں کی تیاری اور 15 تا 21 دسمبر 2025 کے دوران قومی انسدادِ پولیو مہم کی عملی منصوبے پر گفتگو ہوئی۔وزیرِ اعلی سندھ کو بتایا گیا کہ صوبے میں 2025 کے دوران پولیو کے 9 کیس؛ تین بدین، دو ٹھٹو، اور ایک ایک حیدرآباد، قمبر، لاڑکانو اور عمرکوٹ میں رپورٹ ہوئے۔
کراچی میں آخری کیس دسمبر 2024 میں ضلع شرقی کے گجرو سے رپورٹ ہوا تھا۔ سنہ 2023 کے وسط سے اب تک 75 فیصد سے زائد نمونے مثبت آئے ہیں، جو گزشتہ دہائی میں سب سے زیادہ اور تشویشناک شرح ہے۔ سید مراد علی شاہ نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وائرس کی یہ وسیع موجودگی ناقابلِ قبول ہے۔ صرف ایک اعلی معیار کی، منظم مہم ہی اس کے پھیلا کو روک سکتی ہے۔ اضلاع کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اکتوبر کی قومی حفاظتی ٹیکوں کی مہم میں 87 فیصد لاٹس پاس ہوئیں، جبکہ 206 میں سے 27 لاٹس (13 فیصد)معیار پر پورا نہ اتریں۔
وزیرِ اعلی نے اس کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے واضح ہدایات دیں کہ ڈپٹی کمشنرز فیلڈ سرگرمیوں پر مکمل توجہ دیں۔ پولیو مہم کے دوران کسی قسم کی انتظامی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صبح کی اسمبلیاں مثر ہوں، فرنٹ لائن ورکرز کو متحرک رکھا جائے، ہر بچے تک مہم کے دنوں میں پہنچا جائے، بعد کے کیچ اپ پر انحصار نہ ہو۔ ڈی ایچ اوز ڈیٹا میں ردوبدل اور غیرحاضری پر زیرو ٹالرنس اپنائیں، یو سی سپورٹ ٹیمیں فوری طور پر زمینی مسائل حل کریں۔ دسمبر کی مہم میں 1 کروڑ 6 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔ صوبے کی 30 اضلاع کی 1345 یونین کونسلز میں مہم چلائی جائے گی۔ 80 ہزار سے زائد فرنٹ لائن ورکرز اور 21 ہزار سے زائد پولیس اہلکار، جن میں تقریبا 400 لیڈی کانسٹیبل بھی شامل ہیں، فرائض انجام دیں گے۔وزیرِ اعلی نے زور دیا کہ پولیس اہلکار صبح کی اسمبلیوں میں بروقت تعیناتی یقینی بنائیں۔
لیڈی کانسٹیبلز ہائی ریفیوزل علاقوں میں رسائی میں مدد کریں۔ضلع سینٹرل کراچی اور سکھر کی کارکردگی قابلِ تحسین قرار دی گئی۔ ضلع وسطی کراچی نے این جی اوز اور ٹان ایڈمنسٹریشن کی مدد سے 4,000 پولیو ورکرز کے لیے ٹرانسپورٹ اور لنچ کا انتظام کیا۔ سکھر میں 300 اے آئی سیز کی 100 فیصد اسیسمنٹ، 13 کمزور کارکردگی والے اے آئی سیز کی تبدیلی، بہتر نگرانی اور ہائی رسک یو سی میں بہتر کوریج کی رپورٹ پیش کی گئی۔سید مراد شاہ نے کہا کہ ان اضلاع نے مثال قائم کی ہے، دیگر اضلاع بھی ایسے ماڈلز اپنائیں۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ زیرو ڈوز اور انکار کرنے والے بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ زیرو ڈوز بچوں میں سے 85 فیصد کو اب ویکسین لگا دی گئی ہے، مگر تقریبا 12 ہزار بچے اب بھی باقی ہیں۔وزیرِ اعلی نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام انکار کرنے والے بچوں کو مہم کے دوران لازمی ویکسینیٹ کیا جائے۔ بلدیاتی حکومت اور انتظامیہ براہِ راست فالو اپ کرے۔
وزیراعلی سندھ نے برادری سے رابطے، مثر پیغام رسانی، بااثر شخصیات کی شمولیت اور مربوط میڈیا مہم پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ کے پاس ملک کا بہترین پولیو انفراسٹرکچر ہے۔ اب ضرورت نظم و ضبط، جواب دہی اور عوامی اعتماد کی ہے۔ سندھ کا کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے ڈیٹا کلیکشن آسان بنانے، معاون نگرانی اور فرنٹ لائن ورکرز کی حوصلہ افزائی کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس کا اختتام روزانہ ڈیش بورڈ، رائل ٹائم رپورٹنگ اور صوبائی و ضلعی سطح پر سخت نگرانی کے احکامات پر ہوا۔









