279

پنجاب کے سرکاری محکمے انفارمیشن کمیشن سے کھیلنے لگے۔کمیشن بے بس

شہباز اکمل جندران۔

پنجاب میں بہت سے سرکاری ادارے معلومات تک رسائی دینے کو تیار ہیں۔نہ ہی ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ2013پر عمل در آمد کو تیار ہیں۔جبکہ پنجاب انفارمیشن کمیشن بھی ایسے اداروں کی انتظامیہ کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔
انفارمیشن کمیشن

چیف انفارمیشن کمشنر کے واضح احکامات کے باوجود اینٹی کرپشن، پنجاب ریونیو اتھارٹی، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن،سی اینڈڈبلیو پنجاب،پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پنجاب بورڈ آف ریونیوسمیت کئی ادارے شامل ہیں۔معلومات کی فراہمی اور معلومات کو افشا کرنے کے تحریری احکامات کے باوجود یہ ادارے کمیشن کو چکمے دیئے رہتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے کمیشن کے تحریری حکم نامے کے باوجود شہری کو محض یہ معلومات بھی فراہم نہیں کی کہ صوبے میں کتنی انکوائریاں سورس رپورٹ پر شروع کی گئی ہیں۔اور کتنی گرفتاریاں جوڈیشل ایکشن کے بغیر کی گئی ہیں۔اور محض تعداد کو بھی عام شہریوں کے لیے خفیہ رکھا ہوا ہے۔

اسی طرح کئی ماہ التوا کا شکار رہنے والی درخواست پر تحریری حکم نامے کے جواب میں پنجاب ریونیو اتھارٹی نے اتھارٹی میٹنگز کے فیصلوں DECISIONS˜کو پبلک کرنے کی بجائے محض خانہ پری کرتے ہوئے آدھی سطر کا ایجنڈا آئٹیم اور آدھی ہی سطر کا فیصلہ دے کر چیف کمشنر پنجاب کے سامنے اپنی جے جے کار کروالی ہے۔حالانکہ پی آراے کی طرف سے فراہم کی جانے والی معلومات صرف 2019تک کی ادھوری اور بے کار ہیں۔اور پی آر اے کی میٹنگز میں کیا فیصلے ہوتے ہیں۔اس کو جاننے کا حق شہریوں کو بدستور نہیں دیا جارہا اور فیصلوں کو چھپایا جارہا ہے۔جس پر کمیشن بھی بے بس ہے۔
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے پی آئی او کو بورڈ آرڈ آف کمشنرز کی میٹنگز کے فیصلوں کی مصدقہ کاپی فراہم کرنے کے لیے چیف انفارمیشن کمشنر پنجاب نے ازراہ مذاق باقاعدہ ہاتھ جوڑ کر استدعا کی لیکن متعلقہ پی آئی او نے معلومات پھر بھی نہ دی۔
اسی طرح پنجاب فوڈ اتھارٹی کے پبلک انفارمیشن افسر کمیشن سے کھیلتے ہیں۔اور ایک ہی اپیل پر کئی کئی ماہ صرف کرنے کے باوجود کمیشن کو باور کرواتے ہیں کہ معلومات کی فراہمی پر بہت وقت لگ رہا ہے۔اور کمیشن سیکشن 15اور 16کے تحت کارروائی کرنے کی بجائے ان کی باتوں کو سنتا اور انہیں موقع پر موقع بھی فراہم کرتا ہے تاکہ وہ کسی طور معلومات فراہم کردیں۔
اسی طرح سی اینڈڈبلیو پنجاب اور پنجاب بورڈ آف ریونیو کے پبلک انفارمیشن افسر بھی کمیشن کو پکڑائی دیتے نظر نہیں آتے۔ یہی نہیں بلکہ دیگر بہت سے ادارے اور ان کے پبلک انفارمیشن افسر معلومات فراہم کرتے ہوئے احسان سمجھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں