پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ 318

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے6 ہزار کتابوں کےمسودے”ردی کی ٹوکری”میں پھینک دیئے۔مخصوص پبلشرزکونوازدیا

شہباز اکمل جندران۔۔۔

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نےمختلف پرںٹرز پبشلرز کی ملکیت 6 ہزار سے زائد کتابوں کےمسودوں کو نظر انداز کرتےہوئے بظاہر انہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔لیہن ساتھ ہی ساتھ مخصوص پبلشرزکو نوازبھی دیا ہے

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ

ذرائع کے مطابق پی سی ٹی بی نے 2018-19 میں اخبارات میں اشتہار دیتے ہوئے صوبے بھر کے پرنٹرز، پبلشرز اور مصنفین سے سپلیمنٹری ریڈنگ مٹیریل(SRM) کے مسودے طلب کئے تاکہ اہل مسودوں کو این او سی جاری کئے جاسکیں۔
پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ
پی سی ٹی بی کے اس عمل کے نتیجے میں 6ہزار سے زائد پرنٹرز ، پبلشرز اور مصنفین نے اپنی کتابوں کے مسودے این او سی کے لئے جمع کروائے۔

تاہم پی سی ٹی بی نے ان 6 ہزار مسودوں کا انٹرنل اور ایکسٹرنل ریویو ہی نہ کیا البتہ ڈائیریکٹر مینوسکرپٹ عبداللہ فیصل کی سفارشات پر بورڈ نے مخصوص پبلشرز کے 2018-19 میں جمع کروائے جانے والے 49 مسودوں کو او سی جاری کردیئے۔

ان میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، گوہر پبلشرز، کیمبرج یونیورسٹی پریس، آفاق پبلشرز، بک برو، ایمکے بکس انٹرنیشنل، بابر بک ڈپو، الباکیو انٹرنیشنل اور آئی ٹی سیریز جیسے پبلشرز شامل ہیں۔

پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے ڈائیریکٹر مینو سکرپٹ عبداللہ فیصل نے متذکرہ بالا پرنٹرز، پبلشرز کی کتابوں اور مسودوں کو این او سی جاری کرنے کے لئے ذاتی دلچسپی لی جبکہ مبینہ طور پر دیگر مسودوں کو نظر انداز کردیا

اس سلسلے میں موقف جاننے کے لئے پی سی ٹی بی کے ڈائیریکٹر مینوسکرپٹ عبداللہ فیصل سے رابطے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے اجتناب برتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں