شہباز اکمل جندران۔۔۔
پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ نے چند روز قبل صوبے کے مختلف 31 پبلشرز کی مجموعی طور پر 100 کتابوں پر پابندی عائدکری تھی۔

کتابوں پر پابندی عائد کرنے کے بعد بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر رائے منظور ناصر نے اپنے اس عمل کی میڈیا پر خوب تشہیر کی۔
اور بتایا کہ ان کتابوں میں مذہب۔ریاست ، تاریخ اور تاریخ پاکستان سے متعلق بہت سا قابل اعتراض مواد تھا۔

تاہم ذرائع کے مطابق سابق ایم ڈی پی سی ٹی بی رائے منظور ناصر نے اس سارے عمل میں بہت سی بنیادی باتوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کارروائی کی۔ جس سے کتابوں پر پابندی کا یہ عمل مشکوک ہو کر رہ گیاہے۔
ذرائع نے آگاہ کیا ہے کہ پی سی ٹی نے ان کتابوں کو بین نہیں کیا۔نہ ہی بورڈ نے ان کتابوں کو کہیں سے پکڑا ہے۔

یہ تمام تر کتابیں ابھی کتابی شکل میں بھی نہیں تھیں۔ان میں قریب 80 کتابیں صرف مسودے کی شکل میں ہیں۔
اور پی سی ٹی بی ایکٹ 2015 کے سیکشن 10 کے تحت صوبے کے تمام پبلشر یا مصنف پابند ہیں کہ وہ اپنی کتابیں
یا معاون میٹیریل چھپوانے یا کسی بھی تعلیمی ادارے میں لگوانے سے قبل بورڈ سے این او سی حاصل کرینگے۔
اور متذکرہ بالا پبلشرز نے اپنے مسودے این او سی کے لئے بورڈ کو پیش کیئے جہاں بورڈ نے ان مسودات کا انٹرنل و ایکسٹرنل ریویو کرنے کے بعد این او سی جاری کرنا تھا۔

پی سی ٹی بی نے ان مسودات کا انٹرنل ریویو کرنے کے بعد پوائنٹ آوٹ ہونے والی غلطیوں کو دور کرنے کے لئے مسودات پبلشرز کو واپس کرنا تھے کہ سابق ایم ڈی نے ان کتابوں پر BAN کاچرچا کردیا۔حالانکہ سردست 80 فیصد کتابیں صرف مسودات کی شکل میں تھیں اور کہیں پڑھائی بھی نہ جا رہی تھیں۔
اور انٹرنل ریویو کے بعد کسی بھی کتاب کو قطعی طورپر مسترد کیا جاسکتا ہے نہ ہی BANکیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی الزام سامنے آیا ہے کہ رائے منظور ناصر کے خلاف بورڈ کے بعض جونئیر افسروں نے حکومت کو لمبی چوڑی درخواست دے رکھی ہے۔جس سے توجہ ہٹانے اور اپنی پرفارمنس بیان کرنے کے لئے انہوں نے یہ سب کیا۔
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ “بین”کی گئی تمام 100 کتابیں متعلقہ اعتراضات دور ہونے کے بعد دوبارہ سے جمع کروا ئی جارہی ہیں۔

اور پی سی ٹی بی کو بین کی جانے والی ان کتابوں کو قانون کے مطابق این اور سی جاری کرنا ہوگا۔









