شہباز اکمل جندران۔
سرکاری محکمے آئین اور آئین کے ماتحت قوانین کے تحت معرض وجود میں آتے ہیں۔سرکاری اداروں کی ورکنگ،ٹرانسفر، پوسٹنگ،تعیناتیاں، بجٹ،سٹرکچر،پالیسیاں، فیصلےاور رول آف بزنس براہ راست عوام کے لئے اور اوپن ہوتے ہیں۔

تاہم تہلکہ خیزانکشاف سامنے آیا ہے کہ ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں اربوں روپے مالیت کے بعض ایسے معاہدے کئے گئے ہیں۔جو عوام کے لئے خفیہ ہیں۔

پنجاب حکومت نے ایم ٹی ایم آئی ایس پراجیکٹ سٹارٹ کرتے ہوئے صوبے میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی تیاری کا معاہدہ امریکہ کی کمپنی تھری ایم کے ساتھ پامچ سالہ معاہدہ کیا۔اور معاہدت کی تحریر کو عوام سے پوشیدہ رکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب روپے تھی۔

سال 2012 سے سال 2104 تک اور 2018 سے 2020 تک نمبر پلیٹوں کی تیاری کے معاہدے معطل ہونے یا وجود میں نہ ہونے کی وجہ سے صوبے میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کا بحران پیدا ہوا۔
تھری ایم کی قص کارکردگی کے بعد پنجاب حکومت نے ان بکس نامی کمپنی سے سال 2014 میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کہ فراہمی کا معاہدہ کیا جبکہ سال 2018 میں موٹر وہیکلز رجسٹریشن کارڈ کا معاہدہ کیا۔دونوں معاہدوں کی تحاریر کو عوام سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ان بکس کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی مالیت بھی اربوں روپے ہے۔

اسی طرح سال 2012 میں پاسپورٹ طرز کی رجسٹریشن بک، رجسٹریشن بک کے سٹیکر اور ٹرانسفر ڈیڈ کی تیاری کے معاہدے پہلے کراچی اور بعد ازاں پنجاب پرنٹنگ پریس کے ساتھ کئے گئے۔جن کی مالیت اربوں روپے بتائی گئی ہے۔
اور اب نمبر پلیٹس کی تیاری کے لئے این آر ٹی سی نامی سرکاری ادارے سے کئی ارب روپے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔
ایک نمبر پلیٹ کتنی مالیت کی ہے، اس میں پرافٹ کتنا لیا جاری ہے۔ایک کارڈ، سٹیکر یا ٹرانسفر ڈیڈ کی تیاری پر کتنا خرچ آتا ہے اور کتنا منافع کمایا جارہا ہے۔یہ راز کی باتیں ہیں۔اس کے متعلق کسی کو نہیں بتایاجا سکتا۔ ایسا کہنا ہے ایڈیشن ڈائریکٹر جنرل ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب راو شکیل الرحمن کا۔
محکمے کے اے ڈی جی راو شکیل الرحمن سے تحریری طورپر درخواست کرتےہوئے محکمے کی طرف سے مختلف اوقات میں مختلف کمپنیوں اور سرکاری اداروں سے نمبر پلیٹس،سمارٹ کارڈز، سٹیکرز،ٹرانسفر ڈیڈز اور رجسٹریشن بکس کی تیاری کے معاہدوں کی کاپیاں طلب کی گئیں تو انہوں نے تحریری طور پر موقف اختیار کیا کہ تمام معاہدے خفیہ ہیں۔ان کے متعلق معلومات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔









