189

پنجاب انفارمیشن کمیشن کب سے بطور عدالت کام کررہا ہے۔کمیشن نے جواب نہ دیا۔

شہبازاکمل جندران۔۔

پنجاب انفارمیشن کمیشن روزمرہ کے فرائض کی انجام دہی میں عدالت لگا کرکام کرتا ہے۔

ان دنوں انفارمیشن کمشنر ون ڈاکٹر عارف مشتاق اور انفارمیشن کمشنر ٹو چوہدری شوکت باقاعدہ عدالت لگا کر درخواستوں پر سماعت کرتے ہیں اور درخواست گزار کے ساتھ ساتھ پبلک انفارمیشن افسروں اور محکموں کے ذمہ داران کو اپنے سامنے کھڑا رکھتے ہیں۔

پنجاب انفارمیشن کمیشن
حالانکہ پنجاب انفارمیشن کمیشن کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ عوام الناس اور سرکاری محکموں کے افسران کو اپنے روبرو کھڑا کریں۔

پنجاب انفارمیشن کمیشن
پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے سیکشن 6 کی کلاز 3 کے مطابق انفارمیشن کمیشن محض کسی شخص کو طلب کرنے اور فراہم کردہ معلومات کا معائنہ کرنے کی حد تک سول کورٹ کے اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔

تاہم پنجاب انفارمیشن کمیشن نے نوٹیفائیڈ عدالت نہ ہونے کے باوجود بطور عدالت کام کرنا شروع کررکھا جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں شہری کی طرف سے ایک درخواست بھی دائر کی گئی جس میں معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت استفسار کیا گیا کہ کیا پنجاب انفارمیشن کمیشن نوٹیفائیڈ کورٹ ہے؟ اگر نوٹیفائیڈ عدالت نہیں ہے تو کمیشن بطور عدالت کام کیسے کرتا ہے۔ یہ درخواست 7 مئی 2022 کو کمیشن کو موصول ہوئی لیکن 20 روز گزرنے کے بعد بھی کمیشن نے درکار جواب نہ دیا حالانکہ قانون کے مطابق کمیشن 14 روز میں ایسی درخواست کا جواب دی ے کا پابندہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں