اسکول ایجوکیشن 19

پنجاب ،سکولوں میں امتحانی نظام شفاف بنانے کیلئے نئی ایس او پیز جاری

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)محکمہ اسکول ایجوکیشن نے پنجاب بھر میں سالانہ امتحانات کے نظام کو مزید شفاف اور موثر بنانے کے لیے نئی ہدایات اور ایس او پیز جاری کر دئیے ہیں،جاری کردہ ہدایات کے مطابق امتحانی پرچوں کی مارکنگ کے عمل کو سخت نگرانی میں رکھا جائے گا تاکہ نتائج کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق پنجاب بھر سے 25فیصد سکولوں کے پیپرز کو سکول بیسڈ اسیسمنٹ کے تحت علیحدہ نظام کے ذریعے ویلیڈیشن کے لیے منتخب کیا جائے گا، اس عمل کا مقصد امتحانی نتائج کی درستگی کی جانچ کرنا ہے۔

حکام نے تمام سکول سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسیسمنٹ سے متعلق مکمل ریکارڈ محفوظ رکھیں، اگر کسی سکول میں غلط مارکنگ یا نتائج کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی شکایت سامنے آئی تو متعلقہ سربراہان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ محکمہ کے مطابق جعلی یا من گھڑت نتائج تیار کرنے والے سکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ حقیقی اور درست نتائج دینے والے سکول سربراہان کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔ مزید ہدایات میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اور آٹ سورسڈ سکولوں میں امتحانی نظام کو خفیہ اور شفاف رکھا جائے، آٹھویں جماعت کے امتحانات کے پرچوں کی مارکنگ کے معیار کو پیکٹا آزادانہ طور پر چیک کرے گا۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق ڈی پی آئیز، ڈائریکٹرز اور سی ای اوز کی کارکردگی کا جائزہ بھی اسیسمنٹ چیکنگ کے معیار کی بنیاد پر لیا جائے گا۔واضح رہے کہ حساس امتحانی مراکز میں امیدواروں کی بائیو میٹرک حاضری کے نفاذ کا عمل آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت امتحانی عمل کو مزید شفاف اور موثر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حساس مراکز میں تقریباً 6ہزار سے زائد طلبا کی بائیو میٹرک حاضری مکمل کر لی گئی ہے، تاکہ ہر امیدوار کی شناخت یقینی بنائی جا سکے اور نقل یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔توصیف الرحمان کا کہناتھا کہ میٹرک امتحانات کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ آن لائن مانیٹرنگ کے نظام سے امتحانی عمل میں شفافیت کو بڑھایا جا سکے گا۔کنٹرولر امتحانات نے کہا کہ نقل کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں اور بائیو میٹرک حاضری کا نظام اس سلسلے میں ایک اہم قدم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل سے امتحانی مراکز میں نظم و ضبط قائم رہے گا اور امیدواروں کے حقوق محفوظ ہوں گے۔ماہرین کے مطابق بائیو میٹرک حاضری کے نفاذ سے نہ صرف امتحانات کی شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ مستقبل میں بھی امتحانی اداروں میں معیار اور اعتماد قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں