عبدالعلیم خان 34

پاکستان ”کیریک ڈیجیٹل کوریڈور“ کی تجویز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے،وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان

بشکیک(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پاکستان کیریک 2030 کے وسط مدتی جائزے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کیلئے پرعزم ہے، پاکستان ”کیریک ڈیجیٹل کوریڈور“ کی تجویز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ جمعرات کو وزارت مواصلات سے جاری بیان کے مطابق عبدالعلیم خان کی قیادت میں پاکستانی وفد کی 24ویں کیریک وزارتی کانفرنس میں شرکت کی۔

وزارتی کانفرنس ایشیائی ترقیاتی بینک کی میزبانی میں بشکیک، کرغز جمہوریہ کے دارلحکومت بشکیک میں منعقد ہوئی۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ایشیائی ترقیاتی بینک کی قیادت کا خصوصی شکریہ اداکرتےہوئے کہا کہ اے ڈی بی کی قیادت نے پاکستان اور خطے کے تعاون کے ایجنڈے میں مسلسل مدد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کا موضوع ”گرین اینڈ ڈیجیٹل کیریک“ خطے کے پائیدار، موسمیاتی لحاظ سے محفوظ اور باہم منسلک مستقبل کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سال کا موضوع پاکستان کی گرین گروتھ، کم کاربن معیشت اور ڈیجیٹل ترقی کی قومی ترجیحات سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان کیریک 2030 کے وسط مدتی جائزے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ پاکستان ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹلائزیشن اور تجارت کے شعبوں میں وضع کردہ ایکشن پلان اور اپ ڈیٹ شدہ حکمتِ عملیوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ لینڈ پورٹ اتھارٹی ایکٹ 2025 کا نفاذ، TIR/eTIR نظام کا پھیلاؤ جو بارڈر پار محفوظ اور بغیر کاغذ تجارت کو ممکن بناتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سنگل ونڈو کے ذریعے الیکٹرانک سرٹیفکیٹس کا اجرا، اور راست کا فروغ، پاکستان کی معیشت میں شفافیت، رفتار اور مالی شمولیت کو بڑھا رہا ہے۔ پاکستان کو مستحکم، اصلاحات پر مبنی اور ڈیجیٹل معیشت کی جانب لے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیرعبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان ”کیریک ڈیجیٹل کوریڈور“ کی تجویز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک اور دلچسپی رکھنے والے رکن ممالک کے ساتھ اس منصوبے کے فزیبلٹی، ڈیزائن اور باقی پہلوؤں پر قریبی تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کیریک ڈیجیٹل کوریڈور کو بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز پیش کی اور ”کلائمیٹ اینڈ سسٹینبیلٹی پروجیکٹ پریپریٹری فنڈ (CSPPF)“ کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ فنڈ کیریک خطے میں موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم سنگِ میل ہے۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے شدید خدشات سے دوچار ہے۔ شدید موسمی حالات زندگیوں، انفراسٹرکچر اور اقتصادی ترقی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مشترکہ ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے اے ڈی بی کی جانب سے اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ واضح نتائج پر مبنی ڈیش بورڈ کے ذریعے وزراء اور نیشنل فوکل پوائنٹس کو باقاعدہ پیش رفت رپورٹ فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ اجتماعی کوششوں، جدت اور پائیدار ترقی کے ذریعے خطہ زیادہ مربوط، لچکدار اور خوشحال مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان، کیریک ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ بھی پاکستانی وفد کے ساتھ کانفرنس میں شریک ہوئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں