لاہور( رپورٹنگ آن لائن)بین الاقوامی امور کے ماہر ، سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی بحرانوں میں پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا ء بلکہ مشرق وسطی میں ایک بڑی مسلم طاقت کے طور پر ابھرا ہے،دنیا میں تین بڑے ممالک امریکہ، روس اور چین کے بعد ایشیا ء میں جو 5 بڑی مسلمان طاقتیں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، ایران اور انڈونیشیا ء ہیں ان میں پاکستان کا سب سے کلیدی کردار ہے جس کی وجوہات جغرافیہ، کردار اور فوجی صلاحیت ہیں،امریکہ کا جو سپر پاور کا سٹیٹس ہے وہ خلیجی جنگ میں دفن ہو گیا ہے۔
ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں قوانین ختم ہو گئے ہیں، اب یہ دیکھا جاتا ہے کہ آپ کی کتنی قوت ہے، کتنی صلاحیت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کتنا حوصلہ اور ہمت ہے۔ان تینوں چیزوں کے ساتھ اب پاکستان صرف جنوبی ایشیا ء میں نہیں بلکہ مشرق وسطی میں بھی مرکزی کھلاڑی اور نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر ابھرا ہے،پاکستان کی اس حوالے سے اہمیت جلد مزید اجاگر ہو گی۔مشاہد حسین سید نے کہا کہ خلیجی ممالک اور مسلم دنیا کا امریکہ سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور وہ پاکستان اور ترکیہ پر زیادہ اعتماد کر رہے ہیں۔پاکستان نے 1971 میں سیکھ لیا تھا کہ جارحیت کے وقت اپنا دفاع خود کرنا ہوتا ہے، آپ کے معاہدے ہوں تو بھی کوئی آپ کی مدد کے لیے نہیں آتا۔ہمارے خطے میں پچھلے 30،40 برسوں سے مشکل صورتحال رہی ہے، افغانستان میں دو دفعہ فوج کشی ہوئی، ایک دفعہ روسی آئے پھر نکالے گئے، پھر جنگ ہوئی، امریکی آئے وہ نکالے گئے، ابھی بھی گڑبڑ ہو رہی ہے،اسی خطے میں ایران میں انقلاب آیا ہے اور اسی خطے میں 3 خلیج جنگیں ہوئیں اور اب چوتھی بار سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی خطے میں ایک سپر پاور ختم ہوئی اور اس کا نقشہ تبدیل ہوا،بھارت نے پاکستان کے خلاف 3 مرتبہ جارحیت کی کوشش کی اور بڑی چھوٹی جنگیں ہوئیں، بھارت کے ساتھ تو ہمیں اپنا بچا ئوخود کرنا ہے اور اس لیے ہم نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی۔
انہوںنے کہا کہ یہ بات خلیجی ریاستوں کو سمجھ آ گئی ہے کہ اڈے بھی دئیے، انہوں نے ہتھیار بھی لیے، پیسے بھی دئیے لیکن جب وقت آیا تو امریکہ نے اسرائیل کے دفاع کو ترجیح دی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس دولت نہیں ہے لیکن اس کا اثر ورسوخ ضرور ہے اور اس کی طاقت اس کے قدرتی وسائل، اس کے قیام کا نظریہ اور قائداعظم کی اسلامی ریاستوں کے متعلق سوچ ہے۔موجودہ حالات میں پاکستان کے لئے مواقع ہیں جن میں ایک معاشی ہے، ایک سکیورٹی جبکہ تیسرا اسٹریٹیجک ہے۔امریکہ پر جو مکمل اعتماد کا رشتہ تھا کہ 100 فیصد سارے انڈے امریکی ٹوکری میں ڈالیں اب اس پرنظرثانی ہوگی کہ امریکہ بااعتماد ساتھی نہیں اور ان کا دفاع نہیں کر سکتا تو اس پر ان کی نگاہ اسلام آباد کی طرف ہوگی کہ پاکستان مسلم بھائی بھی ہے، پاکستان بااعتماد ساتھی بھی ہے اور پاکستان مشکل وقت میں ان کا ساتھ دے سکتا ہے۔
پہلے یہ تھا کہ جی دبئی چلو، دبئی پرامن جگہ ہے، خوشحالی کا ایک جزیرہ ہے اور اپنی سرماریہ کاری ساری دبئی میں کرو۔میرے خیال میں ریورس گئیر لگے گا، لوگ واپس بھی آئیں گے، لوگ پیسہ لگانا چاہیں گے۔ہمیں چاہیے کہ اس میں کھلے عام واضح کریں کہ جو لوگ آنا چاہتے ہیں، وہ پاکستان سرمایہ کاری کریں ، ہم ان کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ایک قسم کی عام معافی ڈیکلئر کریں ،ہماری معیشت اسی موقعے سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں مشاہد حسین سید نے کہا کہ امریکہ کا سپر پاور کا امیج دفن ہو چکا ہے۔ایک سپر پاور صرف ٹینکوں، جہازوں، ایئرکرافٹ کیریئر سے، فوجی طاقت سے نہیں ہوتی، اس کا رعب ، دبدبا ہوتا ہے ۔جس طرح سوویت یونین کا بھرم اور دہشت افغانستان کے پہاڑوں میں شکست کھا کر نکلا اسی طرح امریکہ کا ایک بڑا رعب اور دبدبا تھا لیکن ایران کے ساتھ لڑائی میں وہ رعب اور دبدبا، وہ سپر پاور کا سلسلہ ختم ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ اب امریکہ چین ، برطانیہ کی، دوسرے ممالک کی مدد کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلوانے میں ہماری مدد کرو،امریکہ کا جو سپر پاور کا سٹیٹس ہے وہ اب اس خلیجی جنگ میں دفن ہو گیا ہے۔
مشاہد حسین نے پاکستان کی افغانستان میں کاروائیوں کے متعلق بات کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے تاہم ہمیں سفارت کاری کا آپشن بھی کھلا رکھنا چاہیے اور صرف عسکری کاروائیاں نہیں کرنی چاہئیں۔یہ معاملہ فوری طور پر حل ہونے والا نہیں ہے اور اس میں ہماری یہ اسٹریٹیجی ہونی چاہیے ۔چین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ چین کا بڑا کلیدی کردار ہے کیونکہ وہ اس خطے کا ایک حصہ ہے اور اس کے ایران کے ساتھ بھی اسٹریٹیجک تعلقات ہیں۔









