کورونا ویکسین 217

پاکستان میں کورونا ویکسین کی ٹیسٹنگ کی تیاری شروع

لاہور(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان میں کورونا ویکسین کی ٹیسٹنگ کی تیاری شروع کردی ہے ۔ دو ہفتوں تک کورونا کے مریضوں پر اس ویکسین کے پائلٹ ٹرائل کا آغاز ہو جائے گا ۔

اس بات کا اعلان وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر جاوید اکرم نے جمعرات کے روز میڈیا بریفنگ میں کیا۔ پروفیسر جاوید اکرم نے بتایا کہ آسٹریلیا میں تیار ہونے والی ویکسین کو پاکستانی مریضوں پر ٹیسٹ کیا جائے گا ۔ انھوں نے کہا کہ کوویکس 19 کے نام سے تیار ہونے والی ویکسین پہلے مرحلے میں جانوروں کے اوپر کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ پروفیسر جاوید اکرم نے مزید بتایا کہ ویکسین کو آسٹریلیا کی فلنڈرز یونیورسٹی میں پروفیسر نکولائی پیٹرووسکی اور انکی ٹیم نے تیار کیا ہے۔

ویکسین کو دوسرے مرحلے میں آسٹریلیا کے علاوہ امریکہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک میں بھی انسانوں پر ٹیسٹ کیا جا رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ویکسین کی انسانوں پر ٹیسٹنگ کیلئے فلنڈرز یونیورسٹی اور یو ایچ ایس کے درمیان معاہدہ ہوگا۔ کراچی کی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی بھی معاہدہ کا حصہ ہوگی۔ میڈیا بریفنگ سے قبل ویکسین کی ٹیسٹنگ کے حوالے سے یو ایچ ایس میں ویڈیو اجلاس ہوا جس میں آسٹریلیا سے پروفیسر نکولائی پیٹرووسکی اور پروفیسر ڈیوڈ گورڈن نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ پروفیسر نکولائی پیٹرووسکی نے کورونا ویکسین کی تیاری اور پہلے مرحلے میں کامیابی کے حوالے سے بریفنگ دی۔

جناح میڈیکل یونیورسٹی کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق رفیع بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے ۔ اس موقع پر پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ ابتدائی طور پر پاکستان میں ویکسین کی ٹیسٹنگ 50 افراد پر کی جائے گی۔ 25 افراد کو اصل ویکسین دی جائے گی جبکہ 25 مریضوں کو کنٹرول کے طور پر بے اثر دوا دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی ٹیسٹنگ کیلئے رضاکار آیندہ چند دنوں میں بھرتی کرلئے جائیں گے جبکہ آسٹریلیا سے ویکسین دو ہفتے تک پاکستان پہنچ جائے گی۔ پروفیسر نکولائی پیٹرووسکی نے بتایاکہ ویکسین بنیادی طور پر پروٹین ہے اور انسانی صحت کیلئے اس کا نقصان سامنے نہیں آیا ۔ پروفیسر جاوید اکرم نے آسٹریلوی ماہرین کو بتایا کہ ٹیسٹنگ کے آغاز سے قبل اس کی نیشنل بائیوایتھیکل کمیٹی، ڈریپ اور دیگر متعلقہ اداروں سے منظوری لی جائے گی۔

دیگر یونیورسٹیوں کو بھی پراجیکٹ کا حصہ بنائیں گے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ویکسین کو انٹراماسکیولر انجیکشن کی شکل میں کورونا کے مریضوں کو دیا جائے گا۔ اس پائیلٹ پراجیکٹ کے نتائج کو دیکھتے ہوئے زیادہ مریضوں کو ویکسین استعمال کرائی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کمرشل بنیادوں پر ویکسین کی تیاری تین ماہ تک شروع ہوسکتی ہے ۔ پروفیسر جاوید اکرم نے مزید کہا کہ کورونا کے کیسز کم ہونے پر قوم کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

سمارٹ لاک ڈآون، بہتر قوت مدافعت اور موسمی حالات بھی کیسز میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ پروفیسر جاوید اکرم نے محرم الحرام کو کورونا وائرس کے کنڑول کے حوالے سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے عوام سے احتیاط کی اپیل کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں