لاہور (رپورٹنگ آن لائن ) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ29 برسوں بعد پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد خوش آئند اقدام ہے.
پاکستان کو یہ اعزاز 29 سال بعد مل رہا ہے، پاکستان نے 1996میں سری لنکا کے ساتھ مل کر آئی سی سی ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی، بھارتی حکومت نے آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کے حوالے سے ایک غیر منطقی رویہ اختیار کیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، شہبازحکومت بھارت کے خلاف سخت موقف اختیار کرے ۔
انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں ہندو انتہا پسندوں کے اس طرزِ عمل میں پہلے سے زیادہ شدت آئی ہے۔ اس کی وجہ سے بھارت میں نفرت’ عدم برداشت اور دشمنی پر مبنی ایسا ماحول پیدا ہوا ہے کہ جس نے کرکٹ سمیت تمام کھیلوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، اس پر جلتی کا کام انڈین میڈیا نے کیا ہے۔ بھارتی معاشرے میں مسلم دشمنی پر مبنی انتہا پسندانہ سوچ نے نیدر مودی کی حکومت کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ بھارت نے پاکستان کو تمام شعبوں میں تنہا کرنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ بھارتی ٹیم کا پاکستان نہ آنے کا فیصلہ اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ اگرچہ بھارت نے کھیل میں سیاست کو شامل کر کے اپنے ہی مؤقف سے انحراف کیا اور دنیا بھر میں کرکٹ کے کروڑوں شائقین کو مایوس کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی متعصب اور پاکستان دشمن پالیسیوں کی وجہ سے کرکٹ کا مستقبل خطرے میں ہے ۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے نئے صدر جے شاہ کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کی واحد خصوصیت یہ ہے کہ بھارت کے وزیر داخلہ امیت شا کے صاحبزادے ہیں۔
محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ بھارت نے لگ بھگ گزری دو دہائیوں کے دوران پاکستان کے ساتھ کرکٹ تعلقات ختم کر کے دنیا میں پاکستان کے بارے جھوٹا بیانیہ پیش کر رہا ہے کہ یہاں امن و امان کے حالات خراب ہیں۔بھارتی حکومت نے سیاست کو کھیل میں شامل کرکے ایک بری روایت کی بنیاد ڈالی ہے۔









