ڈاکٹر عشرت العباد خان 62

پاکستان میں اب کسی ملک دشمن اور ملک دشمن بیانیہ افراد کی گنجائش نہیں،ڈاکٹر عشرت العباد خان

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سابق گورنر سندھ و سربراہ میری پہچان پاکستان ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اب کسی ملک دشمن اور ملک دشمن بیانیہ افراد کی ضرورت نہیں۔ فیلڈ مارشل اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہیں اب وقت آگیا ہے کہ سوشل میڈیا کے شیروں اور ملک دشمن سوچ کے حامل افراد جو سیاست کی آڑ میں پاکستان کی سا لمیت سے کھیل رہے ہیں انہیں 25کروڑ عوام پاکستان میں مسترد اور عبرت کا نشان بنادیں گے۔

بھارتی چینلوں پر دھمکیاں ملک سے غداری کے زمرے میں آتی ہیں۔ پاکستان کو عظیم مملکت بنانے والی ذات اللہ کی ہے جسکے لئے عاصم منیر کو چنا گیا جو آج پاکستان کی حرمت کی علامت ہیں۔ ایم پی پی کا ایک ایک کارکن میری پہچان پاکستان اور فوج کی شان آن بان بن کر میدان میں آجائے۔ ریاست ہماری ہمیشہ سے ڈیڈ لائن ہے۔ انہوں نے یہ بات مرکزی کمیٹی، ایڈوزئزی کونسل اور شعبہ جات کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے آئینہ دکھا دیا ہے۔ ہم انکی جانب سے حقائق منظر عام پر لانے اور سیاست کی آڑ میں ملک دشمن سرگرمیوں کو عیاں کرنے پر پچیس کروڑ عوام سپاہ سالار کے شانہ بشانہ ہیں۔

چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کے بعد بلوچستان کے ایک ہزار افراد کا سرینڈر کرکے پاکستانی پرچم تھامنا انکی شاندار قیادت کا ثمر ہے۔ خوارجیوں سے نجات میں سیکورٹی فورسز تیزی سے کام کر رہی ہیں۔ بھارتی اور افغانی پاکستان دشمن رجیم کو پراکسی وار کو ہماری فورسز ناکام بنا رہی ہیں۔ ہمارا بیانیہ ریاست پہلے اور سیاست بعد میں اب عوام کا نعرہ ہے۔ پاکستان کی معیشت کا پہیہ اب چلے گا اور حکومت گڈ گورننس کرے تو مہنگائی کے طوفان میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں میری پہچان پاکستان کو تحریک کی طرح گھر گھر پہنچائیں کیونکہ پچیس کروڑ عوام پاکستان کی ترقی اور افواج کے شانہ بشانہ چل کر ملک دشمنوں کو زیرو کرنے کے خواہش مندہیں۔

اب ملک کے خلاف سوچ کو کچلنے کا وقت آگیا ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ منتخب نمائندے پورے پاکستان میں اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ کراچی میں مئیر سمیت سندھ حکومت اپنی کوتاہیوں کو درست کرے نیپا سانحہ اور ڈمپرز حادثات انکی نا اہلیوں کی وجہ سے ہیں۔ کراچی کو فوری انفرا اسٹرکچر کی بہتری کی ضرورت ہے۔ منی پاکستان کو لوٹ کھسوٹ کے بجائے اسکا حق دیا جائے۔ کراچی میں تجربات اور لفاظی کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ عملی کام کیا جائے۔ تاکہ ملک ترقی کرے۔ انہوں نے کراچی کے تمام ٹانز میں رابطہ مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں