آصف علی زرداری 38

پاکستان حقِ خود ارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی غیرمتزلزل اخلاقی،سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا،صدرمملکت

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کشمیری عوام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنا حقِ خود ارادیت حاصل نہیں کر لیتے،دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی اس دن کو اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر مناتے ہیں۔ 1989 میں کشمیری عوام کی تاریخی جدوجہد کے بعد شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اس دن کو باقاعدہ طور پر منانے کا آغاز کیا تھا اور یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے ۔

ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے بہادر کشمیری عوام غیرقانونی بھارتی قبضے کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کے عزم، حوصلے اور ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد بھارت انتظامی اور قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنے قبضے کو مضبوط کرنے کیلئے کوششیں تیز کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر قدغنیں، کشمیری قیادت کی گرفتاریاں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششیں کشمیری عوام کو اُنہی کی سرزمین میں کمزور کرنے کے مترادف ہیں ۔

صدر مملکت نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی رپورٹس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی طرف سے حراستی اقدامات اور اجتماعی سزاؤں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام کی طرف سے گھروں کی مسماری اور ڈیجیٹل آزادیوں پر پابندیوں کے باعث ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی بندش زمینی حقائق چھپانے کی کوششیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور مسجد انتظامیہ کی حالیہ پروفائلنگ دانستہ دباؤ کی کارروائیاں ہیں جن کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کے مذہبی حقوق میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات مذہبی امتیاز کے وسیع تر سلسلے کا حصہ ہیں، جبکہ کشمیری عوام کو بلا خوف و امتیاز اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے ۔

صدر مملکت نے کہا کہ مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے کی گئی خطرناک فوجی کشیدگی اس امر کی یاد دہانی ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کا بنیادی تنازعہ حل نہیں ہوتا۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ محض تشویش کے اظہار تک محدود نہ رہے بلکہ بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے مبصرین کو بلا رکاوٹ رسائی دینے اور کشمیری عوام کو اُن کا وعدہ شدہ حقِ خود ارادیت دینے پر آمادہ کرے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا جب تک وہ آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں کر لیتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں