پاکستان اور چین 217

پاکستان اور چین نے زراعت کے فروغ کےلئے طویل المدتی منصوبہ تیار کر لیا

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان اور چین نے زراعت کے شعبے کو فروغ دینے کے لئے سی پیک (2020-30) کی طویل المیعاد منصوبہ بندی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گوادر پرو کے مطابق اس منصوبے میں زرعی انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنا ، پانی کو بچانے والے جدید زرعی زو نز کی تعمیر کو فروغ دینا اور وسائل کے موثر استعمال کے حصول کے لئے درمیانی اور کم پیداوار والی زمین کی ترقی اور تدارک میں اضافہ شامل ہے ۔ اس میں پانی کی کارکردگی کے لیے ڈرپ ایریگیشن ٹیکنالوجی کو مستحکم کرنے پر بھی توجہ دی گئی ہے ، سی پیک کے راستے والے خطوں میں فصلوں کی کاشت ، مویشیوں کی افزائش ، جنگلات اور خوراک کی افزائش اور مچھلی فارم جیسے شعبوں میں تعاون کو مستحکم کرنا شامل ہے ۔

اس منصوبے کے تحت دونوں ملک فصل کے بعد اس کی برداشت ، ذخیرہ کرنے اور زرعی مصنوعات کی نقل و حمل اور مارکیٹنگ اور فروخت کے ماڈلز میں جدت لانے کے اقدامات کو بھی بہتر بنائیں گے۔ وہ آبی وسائل کے عمل اور انتظام کو بہتر بنانے کے لئے بھی کام کریں گے ، چر ا گاہوں اور صحرا ئی علاقوں کی ترقی کو مضبوط بنانا ، اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا بھی شامل ہے ۔

امید کی جا رہی ہے کہ پاک چین تعاون زراعت کی پیداوار خصوصا کیڑے مار ادویات ، کھاد ، مشینری اور معاون خدمات بشمول زراعت کی تعلیم اور تحقیق کو تقویت بخشے گا۔وہ جنگلات ، باغبانی ، ماہی گیری اور مویشیوں کی دوائیں اور ویکسین میں بھی تعاون اور باغبانی کی مصنوعات کی پیداوار کو مستحکم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق زراعت پاکستان کی معیشت کا ایک اہم جزو ہے ، اگر اس کو شامل کیا گیا تو اس سے پاکستان کی زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا ، اور چین میں برآمد کے مواقع تلاش ہوں گے۔ بڑھتی ہوئی چینی آبادی کو خوراک کے لئے زراعت کے نظرانداز شعبے میں سرمایہ کاری لانا اور اضافی پیداوار برآمد کرنا بھی چینی حکومت کے مفاد میں ہوگا۔ مشترکہ منصوبوں ، ویلیو ایڈیشن ، پھلوں اور سبزیوں کے لئے کولڈ چین مینجمنٹ ، مارکیٹنگ اور برانڈنگ سے پاکستان کو کمزوریوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور چین اور دیگر ممالک کو زراعت کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔

پاک چین زرعی تعاون کو موجودہ فصلوں کی پیداوری میں عمودی اضافے ، علم و ٹیکنالوجی کی منتقلی ، بیج اور پودوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے کنٹرول پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ سی پیک یقینی طور پر زراعت کے شعبے کی نمو کو بڑھانے اور پاکستان کی معیشت کے لئے ‘گیم چینجر’ بنانے میں معاون ثابت ہوگا ، انفراسٹرکچر کی ترقی کسی بھی شکل میں زراعت کے شعبے سے حاصل شدہ جی ڈی پی میں نمو کا باعث ہے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سی پیک کے تحت تعاون کے سات شعبوں میں سے زرعی ترقی ایک ہے ، چین سی پیک کے راستے پر خاص طور پر کپاس کی پیداواری صلاحیت ، موثر آبپاشی اور فصلوں کے بعد کے بنیادی ڈھانچے تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں