کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ کے وزیر اطلاعات ، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پاکستان اور سیلاب متاثرین ہماری ریڈ لائن ہیں ۔
گذشتہ روز پی ٹی آئی نے گھنائونی سازش کی ہے ایک جعلی تصویر 6 سو اکائونٹس سے وائرل کی گئی ہے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی امدادی اداروں کو ٹیگ کی گئی ہے کہ پاکستان کی امداد بند کی جائے ۔ میں بحیثیت ایک پاکستانی اور ذاتی حیثیت میں وفاقی حکومت ، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور تمام اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ پاکستان اور سیلاب متاثرین کے خلاف گری ہوئی حرکت میں جو بھی ملوث ہیں ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے اور انہیں فوری گرفتار کیا جائے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ذاتی حیثیت میں سندھ ہائی کورٹ میں اس معاملے پر درخواست دائر کریں گے ۔
ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے پیرکو سندھ آرکائیوز میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ این سی او سی نے بھی اس پر تردید جاری کی ہے کہ اس قسم کی انہیں کوئی امداد نہیں ملی ، جبکہ ایک ٹی وی چینل نے خبر چلائی ہے کہ یہ بھارت کی تصویر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کی پوری تنظیم سے سوال کرتیں ہیں کہ یہ کس قسم کی سیاست ہے ۔ عمران خان کی ان سیلاب متاثرین سے کیا لڑائی ہے۔ یہ سیلاب متاثرین اور معصوم لوگوں کے خلاف سازش ہے۔ اس گھنانی حرکت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پوری دنیا کو پیغام دیا گیا کہ پاکستان کی امداد بند کردی جائے اور سیلاب متاثرین کی مدد نا کریں۔ یہ شیطان صفت انسان اداروں کا دشمن ہے ، عدل کا دشمن ہے، سیاست دانوں کا دشمن ہے ، آج سیلاب متاثرین کا بھی دشمن ثابت ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تصویر معروف اور ان لوگوں نے بھی پوسٹ کی ہے جو کہ ٹی وی چینل پر بیٹھ کر پی ٹی آئی کی کھلی حمایت کرتے ہیں۔ یہ کسی صورت میں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہوسکتی ۔ اس حرکت سے لاکھوں معصوم سیلاب متاثرین کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس طرح کی حرکتوں کے تانے بانے بنی گالا سے ملتے ہیں ۔ اگر اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلائے جاتے ہیں تو اس کے تانے بانے بھی بنی گالا سے ملتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان وزیراعظم بننے کے لئے یہ حرکتیں کر رہے ہیں۔ عمران خان ہر چیز اپنی مرضی کی چاہتے ہیں۔ یہ امریکی سازش کی رٹ لگانے والا بنی گالا میں چھپ چھپ کر آمریکی ایمبیسی کے حکام اور سفارتکاروں سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ حکومت سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے ۔ کل سندھ کابینہ میں اس سلسلے میں اہم فیصلے کئے گئے ہیں ۔ گندم کی فی من قیمت 4000 روپے مقرر کردی گئی ہے ۔ جوکہ گذشتہ سال 2000 روپے فی من تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے ، وہ اگلی فصل کاشت کرنے کے قابل ہیںنہیں رہے ۔ گندم کی سپورٹ پرائس بڑھانے کا مقصد ہے کہ کاشتکاروں کو گندم اگانے پر انکریج کیا جائے ، تاکہ آگے چل کر ملک میں گندم کا بحران پیدا نہ ہو ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ گندم کیش کراپ نہیں ، اور کاشتکار اس کے بدلے میں کیش کراپ پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے منگوائی گئی گندم ہمیں 8000 سے 8500 فی من روپے میں ملتی ہے ، وہ بھی اتنی معیاری گندم نہیں ہوتی ۔ اس لئے سندھ حکومت نے گندم کی سپورٹ پرائس بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اپنے کاشتکاروں کی معیاری گندم 4000 روپے فی من کے حساب سے کیون نہ خریدیں ۔ اس اقدام سے ہمارے اپنے کاشتکار کو فائدہ بھی ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ہر سال 15 اکتوبر سے سرکاری گندم گوداموں سے جاری کرتی ہے ، لیکن موجودہ صورتحال میں جب آٹے کی طلب بڑھ رہی ہے ۔ سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری گندم یکم اکتوبر سے جاری کی جائے گی اور اس ضمن میں میکنزم بنانے کے لئے صوبائی وزرا پر مشتمل ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کمیٹی سفارشات تیار کر گی کہ حقیقی پسے ہوئے طبقات تک گندم پر دی جانے والی سبسڈی کیسے پہنچائی جائے۔ کیونکہ موجودہ طریقے کار سے مزدور اور صاحب حیثیت افراد ایک ہی نرخ سے آٹا خریدتے ہیں ۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ گزشتہ روز سندھ کابینہ کے اجلاس میں سیکریٹری محکمہ خوراک نے بریفنگ میں بتایا ہے کہ سیلاب اور بارشوں سے سرکاری گوداموں میں 4 سے 5 فیصد گندم متاثر ہوئی، لیکن اس کا درست اندازہ پانی کے مکمل اخراج کے بعد ہی لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرہ کچھ علاقوں سے پانی کا اخراج نہیں ہو رہا ۔ جھڈو میں پانی کی وجہ سے صورتحال خراب ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت مزید سخت فیصلے کر سکتی ہے ۔ وزیر اعلی سندھ نے ٹاسک فورس کے اجلاس میں محکمہ آبپاشی اور پاکستان آرمی کی ٹیکنیکل ٹیم کو فیلڈ کا معائنہ کرنے کا کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کی ماہرین اس آپریشن کو لیڈ کریں گے جبکہ پاکستان آرمی ان کو ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کرے گی ۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گزشتہ روز سندھ کابینہ نے متاثرین کو فوری طبی امداد دینے کے لیے محکمہ صحت میں کنٹرول روم قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، جوکہ 24 گھنٹے کام کرے گا ۔ کسی بھی شہر ، علاقے یا گاں سے کوئی بھی متاثر شخص یو اے این نمبر پر طبی امداد کے لیے رابطہ کر سکتا ہے ، جس پر فوری طور پر طبی ٹیمیں اس علاقے میں روانا کی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا سیلاب اور بارشوں کے بعد چمڑی کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں ۔
سندھ حکومت نے نجی ہسپتالوں سے بھی ڈرموٹالوجسٹ کی خدمات حاصل کی ہیں ۔ اس کے علاوہ پاکستان آرمی ، پاکستان نیوی کے میڈیکل یونٹس بھی سیلاب متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اس وقت اہم کردار ادا کر رہی ہے اور متاثرین کی ریسکیو اور ریلیف پہنچانے میں ایکسٹرا آرڈنری کام کر رہے ہیں ۔ آرمی چیف خود ذاتی طور پر متاثرین کی بحالی میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔ انہوں نے گزشتہ روز دادو کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ روز سندھ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ راشن کی تقسیم یونین کونسل کی سطح پر کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
سندھ حکومت سمیت وفاقی حکومت اور اس کے ذیلی ادارے بھرپور کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 163000 کیوسک جبکہ اخراج 156100 کیوسک ہے۔ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 177700 اور اخراج 176100 ہے ، جبکہ کوٹری پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی آمد 626200 کیوسک اور اخراج 600000 کیوسک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کوٹری بیراج پر پانی کم نہیں ہوتا ، نکاسی کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی ۔ اسٹریٹ کرائم سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس اور رینجرز کی اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ۔ روزانہ کی بنیاد پر گرفتاریاں کی جا رہی ہیں ۔ بہت سے ملزمان انکانٹر میں ہلاک ہوئے ہیں ۔ آئی جی سندھ پولیس کو کہا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر میڈیا کو کارروائیوں کا ڈیٹا فراہم کیا جائے ۔









