اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین میں ترمیم کا اختیار ہمیشہ سے پارلیمان کے پاس رہا ہے اور جب تک پاکستان آئینی طریقے سے چل رہا ہے، یہ اختیار پارلیمان کے پاس ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہے اور ملک کو چلانے کا اختیار اسی کے پاس ہونا چاہیےیہی بات آئین کے ابتدائیے میں بھی واضح طور پر درج ہے۔وہ جمعرات کو مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے حالیہ آئینی ترمیم کے ذریعے آئینی عدالت کے قیام کا فیصلہ ملکی وفاقی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیا ہے جس میں چاروں اکائیوں کو برابر نمائندگی دی گئی ہے تاکہ قومی سطح کے آئینی و قانونی معاملات میں توازن برقرار رہے۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 2006 میں بھی سیاسی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ جب صوبوں کے مابین آئینی تنازع ہو یا کوئی اہم قومی نوعیت کا آئینی سوال عدالت میں آئے تو ایسی عدالت ہونی چاہیے جس میں تمام اکائیوں کی مساوی نمائندگی ہو۔ موجودہ ترمیم اسی تصور کا عملی اظہار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی نمائندگی بھی شامل کی گئی ہے تاہم یہ صوبوں کی مساوی نمائندگی سے نصف سے زیادہ نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ عوام کے روزمرہ حقوق، آئینی افسوسات اور آرٹیکل 199 کے تحت دائر پٹیشنز کی الگ سے سماعت کے لیے آئینی عدالت کا قیام ضروری تھاجبکہ فوجداری، دیوانی، بینکاری، کمرشل اور سروس معاملات سپریم کورٹ ہی کے دائرہ کار میں رہیں گے تاکہ عوام کو انصاف کے حصول میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ منطق، اعتدال اور فہم و فراست کے ذریعے مسائل کا حل نکالنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ اعلیٰ پائے کے صحافی، صاحبِ بصیرت سیاستدان اور شائستہ قلم کے مالک تھے۔ انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی کی قومی خدمات اور فکری جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔









