چینی 11

ٹیکنالوجی سے مزین سالِ نو کی خریداری: چین میں اسپرنگ فیسٹیول کی کھپت کا نیا منظرنامہ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین میں،چینی قمری نئے سال کی خریداری کو چین کے سب سے اہم روایتی تہوار اسپرنگ فیسٹیول کے لیے تیار کیا گیا ” نین ہو” یعنی ساز وسامان کہتے ہیں۔یہ خاندانی اجتماع، برکات اور خاندانی پیار کے جذبات کا اظہار ہے۔

یہ روایت اپنے جوہر میں مغربی دنیا میں کرسمس کے تحائف سے ملتی جلتی ہے، جہاں نیک تمناؤں اور خوشی کے اظہار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، تاہم ترجیحات میں فرق پایا جاتا ہے۔ مغربی تہواروں میں تحائف عموماً فرد کی ذاتی پسند کو مدنظر رکھتے ہیں، جبکہ چینی روایت میں سالِ نو کی خریداری مسلم معاشروں کے روایتی تہواروں کی طرح زیادہ تر خاندانی ضروریات پر مرکوز ہوتی ہے، جن میں خوراک، ملبوسات اور سجاوٹی اشیاء شامل ہیں، تاکہ سالانہ خاندانی اجتماع زیادہ پُررونق اور پُرتکلف ہو۔

تاہم اب یہ روایت خاموشی سے ایک نئی سمت اختیار کر رہی ہے۔ اسپرنگ فیسٹیول کے قریب آتے ہی چین کی سالِ نو کی مارکیٹ میں خوراک اور سجاوٹ کے سامان کا “غلبہ” کم ہوتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ اے آئی عینکیں، ڈرونز، روبوٹک ویکیوم کلینرز اور دیگر اسمارٹ مصنوعات نئی مقبول سالِ نو کی اشیاء کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف اسپرنگ فیسٹیول کی کھپت کے انداز کو بدل رہا ہے بلکہ چینی معاشرے میں تہوار سے وابستہ ضروریات کی تبدیلی کو بھی واضح کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی پر مبنی سالِ نو کی اشیاء کی مقبولیت دراصل صارفین کی بڑھتی ہوئی توقعات کا نتیجہ ہے۔ مادی معیارِ زندگی بہتر ہونے کے بعد، سالِ نو کی خریداری اب محض کھانے پینے اور لباس تک محدود نہیں رہی بلکہ جذباتی اظہار اور معیارِ زندگی کے بہتر تجربے کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔چینی وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال جنوری میں گھریلو برقی آلات اور ڈیجیٹل اسمارٹ مصنوعات کی فروخت نمایاں رہی، اے آئی کھلونوں کی آن لائن تلاش میں 125 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ روبوٹک ویکیوم کلینرز کی فروخت کاؤنٹی سطح کی منڈیوں میں 121 فیصد تک بڑھ گئی ۔

چھوٹی اشیاء کے مرکز ای وو میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آیا ۔ ڈرون اور اے آئی عینکیں فروخت کرنے والے ایک دکاندار کے مطابق، ان کے پاس صرف صارفین کے لیے 15 اقسام کے ڈرونز دستیاب ہیں، جن کی قیمتیں 200 یوآن سے لے کر 6,800 یوآن تک ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنوعات ابتدائی درجے کے ڈرون ہیں، جن میں سے صرف جنوری میں 1,500 یونٹس فروخت ہوئے، جبکہ ثقافتی سیاحت کی مقبولیت کے ساتھ مڈ رینج اور اعلیٰ درجے کے ایئریل شوٹنگ ماڈلز کی فروخت میں اور بھی تیزی آئی ہے۔

ٹیکنالوجی پر مبنی “نین ہو” کی اصل منطق انسانی جذبات کے گرد گھومتی ہے۔ والدین کے لیے اے آئی عینکیں انہیں جدید سہولیات سے جوڑتی ہیں، گھروں سے دور رہنے والے بچوں کے لیے اے آئی کہانی سنانے والے آلات تنہائی میں ساتھ نبھانے کی علامت بنتے ہیں، نوجوانوں کے لیے ترجمہ کرنے والے ہیڈفونز سفر کے شوق کو دلچسپ بناتے ہیں، جبکہ صفائی سے متعلق اسمارٹ مصنوعات گھریلو مشقت میں کمی لا کر ٹیکنالوجی کو ایک انسانی لمس عطا کرتی ہیں۔
اسمارٹ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار مقبولیت کے پیچھے مضبوط صنعتی بنیاد اور حکومتی پالیسیوں کا کردار بھی اہم ہے۔ نئی قومی “ٹریڈ ان” پالیسی کے تحت اسمارٹ عینکوں سمیت متعدد ٹیکنالوجی مصنوعات کو سبسڈی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، آن لائن “نین ہو” کی پروموشن نے بھی ٹیکنالوجی پر مبنی کھپت کو فروغ دے کر منڈی کی سرگرمی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

تاہم بعض حلقوں میں یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ اگر روایتی “نین ہو” کی اشیاء جیسے گوشت، مچھلی، نئے کپڑے اور نئے سال کی پینٹنگز کم ہو جائیں تو تہوار کی روایتی فضا متاثر ہو سکتی ہے، اور لوگ ٹیکنالوجی میں حد سے زیادہ محو ہو کر خاندانی میل جول کو نظرانداز کر سکتے ہیں۔ یہ خدشات اگرچہ موجودہ دور میں، جب ہر کوئی اسمارٹ فون میں گم ہے ، بے بنیاد نہیں، تاہم ٹیکنالوجی پر مبنی “نین ہو” نئے سال کی خوشیاں ، ٹیکنالوجی کا استعمال اور اس سے استفادہ انسان کے اپنے انتخاب پر منحصر ہے۔ ڈرون سے لی گئی خاندانی تصاویر یادوں کو نئے زاویے دیتی ہیں، جبکہ اے آئی ٹیکنالوجی رشتوں کی یادوں کو زیادہ دیرپا اور مؤثر بنا سکتی ہے۔ یوں ،ٹیکنالوجی اور روایت کا امتزاج یقیناً نئے سال کے جشن میں نہ صرف روایتی رونق برقرار رکھ سکتا ہے بلکہ اِس میں “ذہانت کا احساس” بھی شامل کر سکتا ہے۔

غیر ملکی دوستوں کے لیے، چین میں ٹیکنالوجی پر مبنی “نین ہو” کی خریداری کی لہر نہ صرف کھپت میں تبدیلی ہے، بلکہ یہ چینی اسپرنگ فیسٹیول کی روح کو سمجھنے میں بھی مددگار ہے ، چاہے انداز کچھ بھی ہو، خاندانی پیار اور برکات ہمیشہ یکساں رہتی ہیں۔ ٹیکنالوجی سے مزین “نین ہو”، دراصل چین کی صارفی قوت، صنعتی اختراع اور روایتی تہوار کی جدید صورت گری کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں