ٹیکسیشن 138

ٹیکسلا، راولپنڈی میں ایکسائز انسپکٹر کے خلاف کرپشن اور رشوت ستانی کے سنگین الزامات، سیکرٹری نے انکوائری شروع کردی۔

رپورٹنگ آن لائن۔محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن راولپنڈی کے ایک انسپکٹر کے خلاف کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور بھاری رشوت کے عوض ٹیکس نوٹسز میں غیر قانونی ردوبدل کرنے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔

مقامی شہری ملک خیام رفیق نے صوبائی سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کو تحریری درخواست دیتے ہوئے معاملے کی فوری تحقیقات اور مذکورہ افسر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق پروفیشنل ٹیکس ٹیکسلا اور پراپرٹی ٹیکس ٹیکسلا میں تعینات او پی ایس (OPS) ایکسائز انسپکٹر ذیشان حیدر نے مبینہ طور پر کرپشن اور اندھیر نگری مچا رکھی ہے اور ٹیکس دہندگان کو پیشہ ورانہ اور پراپرٹی ٹیکس کے جعلی اور فرضی ڈیمانڈ نوٹسز بھیج کر لاکھوں روپے بٹورے جا رہے ہیں۔

درخواست میں دو مخصوص کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ لنک 92 ریئل اسٹیٹ (B-17 ٹیکسلا) کو دسمبر 2025 میں 6 لاکھ روپے کا ڈیمانڈ نوٹس بھیجا گیا تھا، تاہم الزام ہے کہ انسپکٹر نے مبینہ طور پر 2 لاکھ روپے رشوت وصول کر کے اس ٹیکس کو محض 20 ہزار روپے کے نئے ڈیمانڈ نوٹس میں تبدیل کر دیا۔ اسی طرح ایس آئی برو پراپرٹیز کو بھی 6 لاکھ روپے کا نوٹس بھیجا گیا جسے مبینہ طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے رشوت کے عوض کم کر کے صرف 20 ہزار روپے کر دیا گیا جسے ٹیکس گزار نے فوری جمع کروادیا۔ جس کی رسیدیں بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

شہری کا موقف ہے کہ مذکورہ اہلکار انتہائی کے خلاف ماضی میں بھی کئی شکایات سامنے آئیں لیکن وہ اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے بچ نکلتا ہے۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پروفیشنل ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس ٹیکسلا کا تمام ریکارڈ فوری طور پر قبضے میں لے کر اعلیٰ سطح کی انکوائری کی جائے تاکہ محکمے کی بدنامی کا باعث بننے والے عناصر کو عبرت کا نشان بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں