اینڈی برنہم 14

ٹرمپ کے جعلی معاون سے پیغام رسانی کے واقعے پر شرمندگی نہیں، برطانوی وزیر اعظم

لندن (رپورٹنگ آن لائن)برطانوی وزیر اعظم اینڈی برہم نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کیا جس نے وائٹ ہائوس کے چیف آف سٹاف کی جعلی حیثیت اختیار کی تھی تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس واقعے کی وجہ سے انہیں ذرا بھی شرمندگی نہیں ہوئی۔

امریکی ویب سائٹ کے مطابق برہم نے کسی نامعلوم کمیونیکیشن چینل کے ذریعے ایک ایسے شخص کو چند پیغامات بھیجے جسے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی معاون سوزی وائلز سمجھ رہے تھے۔ مگر کچھ دیر بعد انہیں شبہ ہوا کہ غلط شخص کو پیغام بھیج چکے ہیں۔اس کے علاوہ وسطی انگلینڈ کے شہر وولور ہیمپٹن کے دورے کے دوران برہم نے ان واقعات کی تصدیق کی لیکن اس بات پر زور دیا کہ پیغامات کے اس تبادلے میں کسی بھی حساس معاملے پر بات نہیں کی گئی۔برطانوی وزیر اعظم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہرگز نہیں مجھے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی کیونکہ یہ رابطہ بہت محدود نوعیت کا تھا اس میں کوئی بھی اہم بات شامل نہیں تھی ،

درحقیقت میں نے بہت جلد یہ محسوس کر لیا کہ اس معاملے کی اطلاع دینی چاہیے اور میں نے ایسا ہی کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اس صورتحال سے بالکل درست طریقے سے نپٹا ہے تمام سیاستدان اس قسم کے دبا اور چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں لیکن میں نے درست اقدام اٹھایا اور یہاں برطانیہ اور امریکہ دونوں جگہوں پر صحیح کارروائی عمل میں لائی گئی۔امریکی ویب سائٹ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ برطانوی وزیر اعظم کے وائٹ ہاس کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز بننے والے شخص کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کے اعلان کے بعد تین برطانوی وزرا جن میں برطانوی وزیر دفاع ویس سٹریٹنگ بھی شامل ہیں کے ذاتی موبائل نمبرز لیک ہو گئے اور وہ انٹرنیٹ پر شائع ہو گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں