ٹرمپ 10

ٹرمپ کی اقوام متحدہ پر کڑی تنقید، غزہ کی جنگ فوری روکنے کا مطالبہ

نیویارک(رپورٹنگ آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ فورا بند ہونی چاہیے اور تمام بیس قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔وہ سات جنگوں کو ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، تاہم روس یوکرین جنگ اور غزہ کے تنازع میں ان کی کوششیں ابھی کسی بڑی پیش رفت تک نہیں پہنچ سکیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے غزہ میں امن قائم کرنے کی کوشش کی اور حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام زیر حراست افراد کو ایک ہی وقت میں رہا کرے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ سات جنگوں کو ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، تاہم روس ۔ یوکرین جنگ اور غزہ کے تنازع میں ان کی کوششیں ابھی کسی بڑی پیش رفت تک نہیں پہنچ سکیں۔امریکی صدر نے اقوام متحدہ میں اپنے پہلے خطاب میں وائٹ ہائوس واپسی کے بعد عالمی تنظیم کا مذاق اڑایا اور الزام لگایا کہ یہ ادارہ امن قائم کرنے کے بجائے غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔انہوں نے جنرل اسمبلی کے فورم سے کہا کہ اقوام متحدہ مغربی ممالک کو غیر قانونی ہجرت پر اکسا کر دراصل ایک حملے کی مالی معاونت کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہاکہ امن کا دور ختم ہو چکا، اب بحرانوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے پاس بے پناہ وسائل ہیں لیکن اپنے مقاصد کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا۔

ٹرمپ نے موسمیاتی تبدیلی پر عالمی کوششوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے دنیا کی سب سے بڑی فراڈ سکیم قرار دیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اقوام متحدہ کا مقصد ہی کیا ہے؟یہ صرف سخت بیانات جاری کرتا ہے، مگر یہ کھوکھلے الفاظ ہیں جو جنگوں کو ختم نہیں کرتے۔اقوام متحدہ کو انہوں نے ایک ایسا لفٹ قرار دیا جو آدھے راستے میں رک جائے۔ اپنی تقریر میں 79 سالہ صدر نے اقوام متحدہ کی عمارت میں خراب لفٹ اور ناکارہ اسکرین کا بھی مذاق اڑایا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے یو این او کو تنقید کا نشانہ بنایا ہو۔ وہ اپنی پہلی مدت صدارت سے ہی تنظیم پر تنقید کرتے آئے ہیں۔

ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور چین و بھارت پر روسی تیل خریدنے کے ذریعے یوکرین جنگ کی مالی مدد کرنے کا الزام لگایا۔ تاہم روس کے بارے میں وہ نسبتا محتاط رہے، البتہ واشنگٹن کی جانب سے نئی پابندیوں کی دھمکی ضرور دی۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور چین روسی تیل خرید کر یوکرین جنگ کو مالی سہارا دے رہے ہیں، جبکہ یورپ بھی روسی تیل خرید رہا ہے اور اپنی ہی جنگ کو فنڈ فراہم کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر یورپ نے روسی تیل لینا بند نہ کیا تو امریکہ مزید پابندیاں عائد کرے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر آنے والے افراد کی تعداد صفر ہو گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاجرین کے مسائل ان کے اپنے ممالک میں حل کیے جائیں نہ کہ انہیں قبول کیا جائے۔انہوں نے یورپ کو خبردار کیا کہ آپ کے ملک تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

کھلی سرحدوں کی ناکام پالیسی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ٹرمپ نے لندن کے میئر صادق خان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یورپ خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کر رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ قیمتی تعلقات قائم کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ غزہ میں امن کی کوشش کرتے رہے اور حماس سے مطالبہ کیا کہ تمام قیدیوں کو ایک ساتھ رہا کرے۔ایران کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ایٹمی ہتھیار سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کو تعاون کی پیشکش کی تھی مگر جواب میں امریکی مفادات کو دھمکیاں سامنے آئیں۔

ٹرمپ نے روس یوکرین جنگ کو ختم کرنے کی اپنی کوششوں کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ سات جنگوں کے خاتمے کی جدوجہد میں ہیں، اسی لیے وہ خود کو نوبل انعام کا مستحق سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہزاروں روسی اور یوکرینی نوجوان ہر ہفتے مر رہے ہیں اور اس جنگ سے روس کی ساکھ بگڑ رہی ہے۔امریکی صدر کے مطابق بھارت اور چین روسی تیل خرید کر جنگ کو مالی مدد فراہم کر رہے ہیں جبکہ یورپ بھی روسی تیل خرید کر اپنے ہی خلاف جنگ کی فنڈنگ کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ اگر یورپ نے تیل لینا بند نہ کیا تو روس پر مزید پابندیاں لگائی جائیں گی۔ٹرمپ نے کہا امن کا زمانہ ختم ہو چکا ہے، اب ہم بحران کے زمانے میں ہیں۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کے پاس بہت اختیارات ہیں مگر اپنے مقاصد کے قریب بھی نہیں پہنچی۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی خالی تقاریر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم ایسی Lift کی طرح ہے جو درمیان میں رک گئی ہو۔امریکی صدر نے تمام ممالک سے بایولوجیکل ہتھیار بنانے کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ امریکہ دنیا میں واپس آ چکا ہے، اس کے پاس سب سے طاقت ور فوج، معیشت اور تعلقات ہیں۔ یہی امریکہ کا سنہری دور ہے۔ٹرمپ کے مطابق رقوم امریکہ کی جانب بہہ رہی ہیں اور ہم سب سے عظیم معیشت بنا رہے ہیں۔

انھوں نے دعوی کیا کہ غیر قانونی طور پر آنے والے تارکین وطن کی تعداد صفر تک پہنچ چکی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ مہاجرین کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ ان کے ملکوں کے مسائل وہیں حل کیے جائیں، سرحدوں کو کھول کر نہیں۔ ٹرمپ نے یورپ کو خبردار کیا کہ وہ خود کو تباہ کر رہا ہے کیونکہ غیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔انھوں نے وعدہ کیا کہ انسانی اسمگلنگ اور منشیات مافیا کے مجرموں کا پیچھا کیا جائے گا۔ ساتھ ہی کہا کہ وینزویلا میں صدر مادورو کے نیٹ ورکس کو تباہ کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں