شہبازشریف 63

وعدے پورے کر رہے ہیں، آئی ایم ایف اگلے جائزے میں سیلابی نقصانات کو مد نظر رکھے، وزیراعظم

نیویارک (رپورٹنگ آن لائن) وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے کہاہے کہ وعدے پورے کر رہے ہیں، آئی ایم ایف اگلے جائزے میں سیلابی نقصانات کو مد نظر رکھے،حکومت کی جانب سے کی جانے والی پائیدار اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں ،ملک بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ورلڈ بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) کے صدر اجے بنگا اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، ان اہم ملاقاتوں میں پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں، اصلاحات اور مستقبل کی شراکت داری پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف نے سربراہ آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان بتدریج اپنے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے وعدے پورے کر رہا ہے، لیکن انہوں نے زور دیا کہ آئی ایم ایف ملک کے آئندہ جائزے میں حالیہ سیلابی نقصانات کو بھی مدنظر رکھے۔

ملاقات میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری معاشی تعاون، اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کی دیرینہ تعمیری شراکت کو سراہا، جو مینجنگ ڈائیریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کی قیادت میں مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کی جانب سے بروقت معاونت پر شکریہ ادا کیا، جس میں 2024 کے لیے 3 ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ، 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) شامل ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی پائیدار اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں اور اب ملک بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کیا، انہوں نے بحالی کے مؤثر اقدامات کے لیے نقصانات کے تخمینے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے مضبوط میکرو اکنامک پالیسیوں پر عمل کرنے کے لیے وزیر اعظم کے عزم کی تعریف کی اور آئی ایم ایف کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیاکیوں کہ پاکستان پائیدار طویل مدتی اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقتصادی اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم نے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات میں حکومت کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کیا جس میں وسائل کو متحرک کرنے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ کے حوالے سے اقدامات شامل ہیں۔وزیرِ اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اصلاحاتی ایجنڈے نے پاکستان کو میکرو اکنامک استحکام کی طرف گامزن کیا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا اور پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دیا۔انہوں نے ورلڈ بینک کے نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (2035ـ2026) کی بھی تعریف کی جس کے تحت عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 40 ارب امریکی ڈالر کا تاریخی اور بے مثال وعدہ کیا ہے.

وزیر اعظم نے اس کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے حوالے سے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔صدر ورلڈ بینک نے پاکستان کے اصلاحاتی اقدامات کو سراہا اور پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کے لیے تعاون کے حوالے سے بینک کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقتصادی اصلاحات کے فروغ اور سی پی ایف کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے طویل مدتی و پائیدار اقدامات کے لیے مسلسل تعاون بڑھانے میں بینک کے پرزور عزم کا اظہار کیا۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں