کوئٹہ(رپورٹنگ آن لائن) گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ وطن عزیز کو امن، ترقی اور رواداری کا گہوارہ بنانے کیلئے ہمیں سیاسی اور مذہبی دونوں محاذوں پر ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ نیشنل پیغام امن کمیٹی کے نمائندہ وفد کی کوئٹہ آمد اور علمائے کرام کو متحرک کرنے کے بہت جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور اس کمیٹی میں ملک بھر سے اقلیتوں کے نمائندوں کی شمولیت خوش آئند اقدام ہے۔
گورنر مندوخیل نے کہا کہ پائیدار امن کے قیام اور دہشت گردی سے نمٹنے میں افواج پاکستان اور دیگر تمام سیکیورٹی اداروں کا اہم کردار ہے، اسلیے ضروری ہے کہ سیاسی اکابرین، جید علمائے کرام اور مشائخ عظام آگے آئیں اور عوام میں حب الوطنی، بھائی چارہ اور ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مولانا طاہر اشرفی کی قیادت میں نیشنل پیغام آمن کمیٹی (NPAC) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ دہشت گردی پورے خطے کیلئے ایک ناسور کی مانند ہے اور بلوچستان بھی پچھلے کئی سالوں میں بہت متاثر ہوا ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے. معاشرے کے ہر ذمہ دار شخص کو انسانی عظمت کا احترام، قومی یکجہتی اور امن کے قیام کے پیغامات کو ملک اور صوبہ کے تمام جوانوں اور دختران تک پہنچانا لازمی ہے۔ سردست فکری اور نظریاتی بنیادوں کا کام کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ منبر اور محراب سے اٹھنے والی آواز بہت موثر رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وحدت فکر کے ذریعے ہی وحدت عمل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور اس ضمن میں متفقہ قومی بیانیہ کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔. ضرورت اس امر کی ہے کہ انتہا پسندی، تخریب کاری، فرقہ پرستی اور لسانی تعصبات جیسے عوامل جو قوم کو تقسیم در تقسیم کر رہے ہیں ان کا مکمل قلع قمع کیا جائے تاکہ فکری انتشار سے بچ کر قومی یکجہتی اور اتحاد کو یقینی بنایا جا سکے۔ آخر میں ملک اور قوم کی سلامتی کیلئے خصوصی دعا کی۔









