پاکستان 15

وزیراعظم کل ترکیہ اور ایران روانہ ہونگے، خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کریں گے،ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد( رپورٹنگ آن لائن)ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بھارت کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے یا اس سے پیچھےہٹنے کی کوئی بھی کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور عالمی قانون کے سراسر خلاف ہوگی، پانی کو سیاسی دباﺅ یا کسی کو مجبور کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا،پاکستان پانی کی تقسیم سے متعلق کسی بھی جامع مذاکراتی عمل میں چین کی شمولیت کی حمایت کرتا ہے،

وزیراعظم محمد شہباز شریف کل (جمعہ کو) ایران اور ترکیہ کے دورے پر روانہ ہوں گے، وہ ایران کے شہید رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے،افغانستان میں دہشت گردوں کو انتہائی احتیاط سے نشانہ بنایا،پاکستانی شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،دوحہ مذاکرات میں فریقین نے مختلف امور پر بات چیت جاری رکھنے اور جلد آئندہ اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے،پاکستان کے ذریعے 70 سے زائد ایرانی شہری وطن واپس پہنچ گئے ہیں،پاکستان قطری شراکت داروں کے ساتھ امریکہ ،ایران کے درمیان سہولت کار، ثالث کے کردار کو جاری رکھے گا ۔ان خیالات کااظہار دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کیا ۔

طاہر حسین اندرابی نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف سابق ایرانی سپریم لیڈر شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے ارکان بھی ہوں گے۔ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول کا دورہ کر رہے ہیں، وزیراعظم استنبول میں ایک کاروباری کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔انہوں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور ایران کے مذاکرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دوحہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان نے ایک مرتبہ پھر سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی قیادت کی تدفین کے بعد مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہوگا۔ فریقین نے مختلف امور پر بات چیت جاری رکھنے اور جلد آئندہ اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے، مذاکرات کا اگلا دور ایران کے سابق سپریم لیڈر کی تدفین اور متعلقہ تقریبات کے بعد متوقع ہے، اس دوران سعودی عرب، چین، بحرین، ایران، برطانیہ اور یورپی یونین کے حکام کے درمیان بھی سفارتی رابطے جاری رہے۔

طاہر اندرابی نے واضح کیاہے کہ پانی کو سیاسی دباﺅ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان کو اس کے جائز حصے سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کی حامل ہوگی۔ترجمان نے کہا اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی سیمینار کے شرکا نے معاہدے کے حوالے سے کسی بھی یکطرفہ اقدام کو مسترد کر دیا۔انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ چھ دہائیوں پرانے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم یا مسترد نہیں کیا جا سکتا۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ بھارتی قیادت کی وہ سوچ ہے جو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کو سیاسی دباﺅ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے اور پاکستان کے جائز حصے کے پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش بھارت کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی اور معاہدوں کی پاسداری سے متعلق اس کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس حقیقت سے غافل نہیں کہ بھارت دریاﺅ ں کا رخ موڑنے کے منصوبوں کے لیے باقاعدہ بجٹ مختص کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کی تقسیم سے متعلق کسی بھی جامع مذاکراتی عمل میں چین کی شمولیت کی حمایت کرتا ہے، کیونکہ یہ دریا ہمالیہ سے نکلتے ہیں اور ان سے بہنے والے پانی سے متعدد ممالک مستفید ہوتے ہیں، اس لیے ان تمام ممالک کو اس عمل میں شامل ہونا چاہئے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت پاکستان کے انتظامی نوعیت کے معاملات پر اعتراضات اٹھانے کے بجائے اپنے ملک میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لئے موثر اقدامات کرے۔ بھارت ہو یا کوئی اور ملک پاکستان کو بنجر نہیں بنا سکتا۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے 753 پاکستانی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی، فہرست وزارت خارجہ اور نئی دلی میں پاکستان مشن کے ریکارڈ کی بنیاد پر مرتب کی گئی، فہرست میں بھارت میں موجود پاکستانی شہریوں کے تمام رپورٹ شدہ کیسز شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان ہر قیدی کے کیس کی افرادی بنیاد پر پیروی کرتا ہے، قونصلر رسائی، شہریت کی تصدیق اور وطن واپسی کے مراحل پر مسلسل کام جاری ہے، پاکستانی قیدیوں کی فہرست مستند اور قابل اعتبار ریکارڈ ہے۔پاک بھارت وزرائے اعظم کو لکھے گئے خط سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خط لکھنے والی شخصیات نے یہ اقدام اپنی ذاتی حیثیت میں کیا ہے۔

ترجمان دفتر خار جہ نے کہا کہ ایران سے تعلق رکھنے والے ایک بحری جہاز کے 22 ایرانی عملے کے ارکان کو بحفاظت کراچی پہنچایا گیا، جہاں سے انہیں اپنے وطن روانہ کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مختلف بحری جہازوں سے منتقل کیے گئے ایرانی شہریوں سمیت پاکستان اب تک 70 سے زائد ایرانی شہریوں کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کر چکا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی فضائی کارروائیاں انتہائی درستگی اور احتیاط کے ساتھ کی گئیں، جن میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 29 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اہداف کے انتخاب اور کارروائی کے دوران غیر معمولی احتیاط برتی گئی تاکہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی میں ہلاک ہونے والے تمام 29 افراد دہشت گرد تھے۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ افغانستان کی جانب سے بھیجے گئے ڈرونز کو پاکستان کے دفاعی اداروں نے فوری طور پر ٹریک کیا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں کامیابی سے نیوٹرلائز کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھاتا رہے گا۔

ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری ہے اور پاکستان اپنے شہریوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 29 جون کو افغان ناظم الامور کو ڈیمارش دیا گیا تھا، جس کی وجہ دہشت گردی میں ملوث ایک افغان شہری کی گرفتاری تھی۔ترجمان نے بتایا کہ صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کی رہائی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل پنٹ لینڈ حکام، صومالی حکومت، جہاز کے مالکان اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہے۔انہوں نے بتایا کہ جہاز کی مالک کمپنی، جس کا دفتر دبئی میں ہے، اس سے بھی رابطہ جاری ہے، جبکہ یورپی یونین کی بحری فورس کے ذریعے یہ تصدیق ہوئی ہے کہ تمام یرغمالی زندہ ہیں اور انہیں خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور امید ہے کہ یرغمالیوں کی جلد رہائی ممکن ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کو انٹرنیشنل اولیو کونسل کی رکنیت حاصل ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق زیتون کی کاشت میں پاکستان کی بہتر کارکردگی کے باعث یہ رکنیت ملی، جبکہ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے متعلقہ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان “اولیو ڈپلومیسی” کو بھی فروغ دے گا۔فاروق آباد کے گردوارے سے متعلق ترجمان نے کہا کہ مذکورہ گردوارہ مذہبی رسومات کے لیے استعمال نہیں ہو رہا تھا اور اس کی خستہ حالت قریبی آبادی کےلئے خطرہ بن چکی تھی۔انہوں نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی اجازت کے بغیر اسے منہدم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم بورڈ نے اسی روز اس عمل کو رکوا دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں