پیٹرولیم مصنوعات 124

وزیراعظم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھانے کی تجویز مسترد کر دیں، میاں زاہد حسین

کراچی (ر پورٹنگ آن لائن)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ فلورملوں کوفراہم کی جانے والی گندم کی قیمت میں بتیس فیصد سے زیادہ کے اضافے سے مہنگائی کی نئی اورخوفناک لہرجنم لیگی۔ حکومت کے اعلان کے مطابق فلورملزکو اب چالیس کلوگندم 1475 روپے کے بجائے 1950 روپے میں ملے گی جس سے مارکیٹ میں آٹے کی قیمت کم ازکم پینتیس فیصد تک بڑھ جائے گی جس سے عوام کا جینا محال ہو جائے گا۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے زخیرہ اندوزوں کو بھی فائدہ ہوگا جنھوں نے کروڑوں روپے کی گندم اسٹاک کی ہوئی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ بیوروکریسی نے بروقت گندم اورچینی درآمد نہ کر کے ملک میں ایک نئے بحران کی بنیاد رکھ دی ہے۔ جس وقت عالمی منڈی میں گندم دو سواسی ڈالر فی ٹن دستیاب تھی اس وقت مختلف حیلے بہانوں سے درآمد کو ٹالا جاتا رہا اوراب جبکہ گندم کی قیمت تین سوسترڈالر فی ٹن تک ہے اسے درآمد کیا جا رہا ہے جس کی قیمت کراچی کی بندرگاہ تک پہنچ کر تقریباً 2460 روپے فی من ہوجاتی ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے میں آٹے کی قیمت میں کم ازکم پانچ فیصد اورگزشتہ ایک سال میں کم ازکم بیس فیصد کااضافہ ہوچکا ہے ا ورگزشتہ روز کے فیصلے کے بعد اس میں زبردست اضافہ متوقع ہے جبکہ دوسری طرف عوام کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا ہے بلکہ بجلی کے بلوں میں زبردست اضافہ سے انکی کمر توڑی جا رہی ہے۔ میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ ان حالات میں جبکہ ڈالر 169 روپے کا ہوگیا ہے اوگرا نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساڑھے دس روپے اضافہ کی تجویز دے دی ہے جس پرعمل درآمد سے مسائل بڑھ جائیں گے۔ ملک میں اس وقت ماہانہ ساڑھے سات لاکھ ٹن پٹرول اورآٹھ لاکھ ٹن ڈیزل استعمال کیا جا رہا ہے جن کی قیمت میں اضافہ معیشت کے لئے تباہ کن ثابت ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں