شہباز شریف 50

وزیر اعظم کی اشیاء خورونوش کی خلیجی ممالک کو برآمد کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خلیجی ریاستوں کو اشیائے خورونوش کی فراہمی، پاکستان کی بندرگاہوں اور میری ٹائم آپریشنز کے حوالے سے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے اجلاس میں خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورونوش کی فراہمی کے حوالے سے بنائی گئی حکمت عملی اور اس پر اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ محکموں اور افسران کی کارکردگی کو سراہا، انہوں نے ہدایت کی کہ خلیجی ممالک کے غذائی تحفظ کے حوالے سے تمام متعلقہ محکمے قریبی رابطے میں رہیں اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی سپلائی چین میں مسائل اور موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا پاکستان کا فرض ہے، ملکی غذائی ضروریات کو متاثر کئے بغیر خلیجی ممالک میں وافر مقدار میں اشیائے خورونوش کی برآمدات تیز کی جائیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ غذائی ضروریات کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جائے اور حکومتی سطح پر فیصلہ سازی میں تاخیر کی گنجائش نہیں، جو لوگ تاخیر کے مرتکب ہوں گے، ان کی جواب دہی کی جائے گی۔

اجلاس میں کراچی، گوادر اور دیگر اہم پاکستانی بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز میں اضافے کے لئے جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔

اجلاس میں خلیجی ممالک کو اشیائے ضروریہ کی برآمدات کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ برآمدات کو فروغ دینے کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی نے 40 فوڈ آئٹمز کی منظوری دی ہے جن میں چاول، خوردنی تیل، چینی، گوشت، پولٹری، خشک دودھ، ڈیری مصنوعات، پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت کے حوالے سے برآمد کنندگان کا ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے اور سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی برآمد پر کوئی اضافی ادائیگی نہیں کی جائے گی، اشیائے خورونوش کی برآمدات کے لیے ہوائی اور بحری اوپن روٹس استعمال کیے جائیں گے، اور خلیجی ممالک کے ساتھ بزنس ٹو بزنس اجلاس اور ویبینارز بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔

کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہیں عید الفطر کی چھٹیوں کے دوران بھی مکمل فعال رہیں، اور ٹرانس شپمنٹ کی صلاحیت میں اضافے کے لیے آف-ڈاک ٹرمینلز پر ٹرانس شپمنٹ ہینڈلنگ کی اجازت دی گئی ہے، کسٹمز قوانین میں ضروری ترامیم کر دی گئی ہیں، اور بندرگاہوں پر نقل و حمل کے نرخ 60 فیصد تک کم کر دیے گئے ہیں۔

اجلاس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر بحری امور چوہدری جنید انور اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر سمیت متعلقہ اعلیٰ حکومتی حکام نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں