کراچی (رپورٹنگ آن لائن) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی ائی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اوراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وزیرآعظم میاں شہباز شریف کی جانب سے ملک بھر میں بجلی کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان نہایت خوش آئند ہے اور یہ پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک مبارک دن ہے۔
بجلی کی قیمت کم ہونے سے عوام اور کاروباری برادری کو ریلیف ملے گا۔ اس سے صنعتی پیداوار اور برآمدات سستی ہو جائیں جس سے دو سے تین ارب ڈالر کی ایکسپورٹ بڑھنے کے قوی امکانات ہیں۔ جبکہ صنعت کاری بڑھنے سے بے روزگاری میں بھی کمی آئے گی جو قوم کے لئے عید کا تحفہ ہے۔
میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو صارفین کے لئے بجلی 7.41 روپے فی یونٹ سستی کردی گئی ہے جبکہ صنعتوں کے لئے بجلی کی قیمت میں 7.59 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ آئی ایم ایف کو بجلی کے ٹیرف میں اتنی بڑی کمی پر رضامند کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا جس کے لئے حکومت کو سخت محنت کرنا پڑی ہے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت بجلی کی قیمت میں مزید کمی کے لئے آئی پی پیز پردبا بڑھائے، بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام کو بہتر بنائے، پاور سیکٹر میں کرپشن کے خلاف اقدامات کرے، سالانہ چھ سو ارب روپے کی بجلی کی چوری کو روکے اور قابل تجدید توانائی کی حوصلہ شکنی کے بجائے اسکی حوصلہ افزائی کرے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت بجلی کے شعبہ میں مناپلی کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کرے، ڈسکوز کو فروخت کرے اور دیگر اصلاحات پر تیزی سیعمل درآمد کرے۔
وزیر اعظم کے مطابق آئی پی پیز سے مذاکرات کے نتیجہ میں حکومت کو 3696 ارب روپے کی بچت ہو رہی ہے تاہم ہمیں صنعت کاری کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا، نئی صنعتوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی اور پرانی صنعتوں میں توسیع کے لیے حکمت عملی بنانی ہوگی تاکہ فاضل بجلی کو صنعت کاری میں استعمال کیا جا سکے اور کپیسٹی پیمنٹ کی ادائیگی کم سے کم ہو سکے اس سلسلے میں کوششیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ اس وقت گردشی قرضہ بھی 2393 ارب روپے ہو گیا ہے جسے ختم کرنا ملک کے معاشی مستقبل کے لئے ضروری ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ مہنگی بجلی کا بوجھ عوام اور کاروباری اداروں کے لیے ایک ایسا وزن ہیجو کئی دہائیوں سے معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ گردشی قرضے کے خاتمے، بجلی چوری کی بیخ کنی، کرپشن کا سلسلہ بند کرنے اور اس شعبہ میں نجی شعبہ کی شرکت کے بغیر اسے زیادہ سستا کرنا ناممکن ہے۔
جب تک بجلی کی قیمت پڑوسی ممالک کے برابر نہیں ہوگی اس وقت تک صنعت و زراعت متوقع ترقی نہیں کر سکے گی اور یہ شعبہ معاشی ترقی اور مسابقت پرمنفی اثرات مرتب کرتا رہے گا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ ہمیں درآمدی ایندھن پر انحصار کم، بجلی کی تقسیم کے نظام میں بہتری اورپالیسی کی سطح پربد انتظامی ختم کرنا پڑے گی ورنہ معیشت مہنگی بجلی کا خمیازہ بھگتی رہے گی۔ جب بجلی مہنگی ہوتی ہے تو پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقت مشکل ہو جاتی ہے۔
اس کے نتیجے میں برآمدات، زرمبادلہ اور صنعتی ترقی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے بہت سی صنعتیں بند یا سستی توانائی والے ممالک میں منتقل ہو گئیں جس کے نتیجے میں ملازمتوں میں کمی اور معاشی سکڑا پیدا ہوا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی متواتر فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر قابو پانا بہت ضروری ہے۔
لوڈ شیڈنگ سے بچنے کے لئے کاروباری اداروں کو متبادل توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے جس سے اخراجات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ان تمام عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے اگلے پانچ سال کے اندر اندر بجلی کے شعبہ کو مکمل طور پر خود کفیل بنانے پر تندہی سے کام کرنا شروع کرے۔