احسن اقبال 37

نوجوانوں میں شناخت اور ثقافتی بیداری کی بحالی کے لیے قومی عزم کی ضرورت ہے،وفاقی وزیر احسن اقبال

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کردار کی تعمیر اور تربیت پر خصوصی توجہ دینا چاہئے تاکہ ہمارے مستقبل کے معمار جدید دور کا بہتر طریقے سے مقابلہ کرتے ہوئے قومی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ سالانہ ٹیچر ڈویلپمنٹ کانفرنس (ٹی ڈی سی-2025) سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تعلیم محض مواد کی منتقلی نہیں ہے بلکہ بچوں کی شخصیت، اقدار اور احساس ذمہ داری کو تشکیل دینے کا ایک عمل ہے۔

اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پچھلی نسلیں ’تعلیم و تربیت‘ ایک رسالہ پڑھ کر پروان چڑھیں جس میں سیکھنے کو اخلاقی رہنمائی کے ساتھ ملایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے نظام تعلیم میں توازن کو بحال کیا جانا چاہیے۔ اس تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے بچے اب اپنے ادبی، تاریخی اور ثقافتی ورثے سے واقف نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ تدریس ’’ایک جامع کوشش‘‘ہے اور بامعنی اصلاحات کے لیے نوجوانوں میں شناخت اور ثقافتی بیداری کی بحالی کے لیے قومی عزم کی ضرورت ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ذہانت، ہنر، ایمانداری اور کامیاب قوموں کے مقابلے میں وسائل رکھنے کے باوجود پاکستان سازگار ماحول کی عدم موجودگی کی وجہ سے بار بار پیچھے چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بیج کی طرح جو استحکام، نمی اور صحیح موسم کے بغیر نہیں بڑھ سکتا، یہاں تک کہ بہترین انسانی صلاحیت بھی امن اور تسلسل کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام کامیاب ممالک نے امن، سیاسی استحکام، کم از کم ایک دہائی تک پالیسیوں کا تسلسل اور طویل مدتی اقتصادی سمت جیسے چار بنیادی اصولوں کو یقینی بنایا۔

انہوں نے چین، ملائیشیا، سنگاپور، جاپان، جنوبی کوریا اور بنگلہ دیش کی مثالوں کے طور پر حوالہ دیا جہاں 10 سے 30 سال پر محیط قیادت کی مدت نے پالیسی کے نتائج کو عملی جامہ پہنانے کا موقع دیا۔ پاکستان کی اپنی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1960ء کی دہائی، 1990ء کی دہائی کے اوائل اور 2013-2018 میں ملک کی ترقی کے ادوار عدم استحکام اور سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے بار بار متاثر ہوئے۔

انہوں نے 1997ء میں وژن 2010 اور 2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے وژن 2025 کے اجراء کو یاد کیا، دونوں اپنے مکمل اثرات پیش کرنے سے پہلے ہی پٹڑی سے اتر گئے۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ “ایسا نہیں ہے کہ ہمارے پاس منصوبہ بندی یا اہلیت کی کمی ہے، یہ عدم استحکام اور پالیسیوں میں وقفہ ہے جس نے ہمیں منافع سے محروم کر دیا ہے۔” انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں کی معاشی بدحالی کے بعد پاکستان میں اب مختلف اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، یہ بتاتے ہوئے کہ تین سال قبل افراط زر جو 38 فیصد تھی، کم ہو کر 4.5 فیصد پر آ گئی، سٹاک مارکیٹ 80,000 پوائنٹس سے بڑھ کر 170,000 تک پہنچ گئی اور ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان رجحانات نے پاکستان پر بین الاقوامی اعتماد کو بحال کیا ہے۔ قوم سے ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرانے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ چوتھا موقع ہے جو اللہ نے ہمیں دیا ہے ہمیں اس ٹیک آف کو پچھلی تین کی طرح کریش نہیں کرنا چاہیے۔ احسن اقبال نے کہا کہ کامیاب معرکہ حق کے دوران پاکستان کے مضبوط اور متحد ردعمل نے ملک کا وقار نمایاں طور پر بلند کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعہ نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کیا ہے، دنیا اب اسے ایک مضبوط اور باوقار قوم کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہ وہ تصویر ہے جس کی ہمیں حفاظت کرنی چاہیے۔ وزیر نے کہا کہ دوست ممالک پاکستان کے ساتھ دوبارہ منسلک ہو رہے ہیں، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سعودی عرب ایک بڑے دفاعی معاہدے پر عمل پیرا ہے، چین سی پیک فیز II کو آگے بڑھا رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات ایک نئے باب میں داخل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے صد سالہ سال 2047ء پر نظر رکھیں جب ملک دیگر علاقائی اقوام کے ساتھ تاریخ کے سامنے کھڑا ہو گا۔قومی ذہنیت میں تبدیلی کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیاسی نہیں بلکہ “اقتصادی لانگ مارچ” کی ضرورت ہے۔ چین کے ساتھ مماثلتیں کھینچتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ قومی ترقی کا انحصار استحکام اور سماجی یکجہتی پر ہے، جن اقدار کو ہر شہری اور طالب علم کو سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قوموں نے ترقی کی جنگیں جوش و خروش کے قلیل دھماکوں سے نہیں جیتی بلکہ ٹیسٹ میچ کے صبر و تحمل سے جیتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایک ایسی نسل تیار کرنی چاہیے جو سمجھے کہ کسی قوم کو ترقی اور کامیابی کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ ماہرین تعلیم کی طرف پھر سے رجوع کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پڑھانا کوئی کام نہیں بلکہ ایک مشن ہے، ان پر زور دیا کہ وہ قوم کے مستقبل کو سنوارنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں اور طلباء میں پاکستان کی ترقی میں بامعنی کردار ادا کرنے کا عزم پیدا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں