مرتضیٰ وہاب 35

میئرکراچی نے 2026 کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال قرار دیدیا

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ تاریخی اولڈ سٹی ایریا کی ترقی اور بحالی کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی عملی اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے اور سال 2026 کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال قرار دیا گیا ہے، اولڈ سٹی ایریا کو جدید شہری سہولیات سے آراستہ کرنا بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اولین ترجیح ہے، تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں شفاف اور معیاری انداز میں مکمل کیے جائیں گے اور 30 جون تک اولڈ سٹی ایریا میں جاری ترقیاتی کام مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے،

منصوبے کو 595 اعشاریہ 600 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 70 کروڑ روپے بلدیہ عظمیٰ کراچی اولڈ سٹی ایریا پر خرچ کرنے جا رہی ہے، ان منصوبوں کے تحت جوڈیا بازار، بولٹن مارکیٹ، میٹھادر اور کھارادر میں سڑکوں، پیور بلاکس، وئیرنگ ایریاز اور سیوریج لائنز کی بحالی شامل ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اولڈ سٹی ایریا میں سڑکوں کی تعمیر، سیوریج سسٹم کی بحالی اور اسٹریٹ لائٹس و الیکٹریفکیشن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، منتخب نمائندے اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ لی مارکیٹ تاریخی اور پرانی عمارت ہے،

جس کی بحالی 10 کروڑ روپے کی لاگت سے کی جائے گی۔ لی مارکیٹ کی بحالی کا کام تاجروں کے ساتھ مشاورت اور تعاون سے اصل حالت میں کیا جائے گا اور اس منصوبے کو 90 روز میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اولڈ سٹی ایریا چونکہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے، اس لیے یہاں کے تاجروں کا کردار نہایت اہم ہے اور سرکار، انتظامیہ اور تاجر مل کر کام کریں گے تو بہتری ممکن ہوگی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ سڑکیں بنائی جائیں اور بعد میں کوئی ادارہ آ کر دوبارہ کھدائی کر دے، اس حوالے سے بہتر ہم آہنگی پیدا کی جا رہی ہے۔

اہلِ علاقہ اور تاجر برادری کو بھی ان ترقیاتی کاموں کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، میئر کراچی نے کہا کہ کھجور بازار اور دیگر مارکیٹوں میں بھی ترقیاتی کام کروائے جا چکے ہیں اور ہوتھی مارکیٹ اور ایمپریس مارکیٹ کی طرز پر مچھی میانی مارکیٹ کو بھی بہتر بنایا جائے گا، میئر کراچی نے کہا کہ شہر میں پانی کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لیاری میں نئی پانی کی لائنوں کا کام جون تک مکمل ہو جائے گا۔ کے فور اگمینٹیشن منصوبے کے مسئلے کا حل نکال لیا گیا ہے اور اس منصوبے پر کام کا آغاز ہو چکا ہے، انہوں نے بتایا کہ 71 ارب روپے پانی کی لائنوں کی تنصیب پر خرچ کیے جائیں گے، کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ویژن ہے کہ پانی عوام کا بنیادی حق ہے،

انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی میں پانی کی چوری کے خلاف کارروائیاں سست روی کا شکار رہتی تھیں، تاہم واٹر ٹریبونل کے قیام سے اس مسئلے پر قابو پایا جائے گا۔ واٹر ٹریبونل سے متعلق قانون سازی مکمل ہو چکی ہے اور چیف جسٹس کی مدد سے جج کی تعیناتی بھی عمل میں آ چکی ہے، آئندہ چند روز میں واٹر ٹریبونل کا باقاعدہ افتتاح کیا جائے گا، میئر کراچی کے مطابق اولڈ سٹی ایریا میں اسٹریٹ لائٹس اور الیکٹریفکیشن کا کام بھی سائٹ کی ضرورت کے مطابق مکمل کیا جائے گا، جس سے نکاسی آب، ٹریفک کی روانی اور عوامی سہولتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔ چار لاکھ اسکوائر فٹ پیور بلاک لگائے جائیں گے، ساڑھے آٹھ لاکھ اسکوائر فٹ سڑکوں کی تعمیر ہوگی اور سیوریج نظام کی بحالی کے وسیع کام کیے جائیں گے،

میئر کراچی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک واضح سوچ اور منشور کے تحت عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کر رہی ہے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اولڈ سٹی ایریا کے اس پروجیکٹ کے تحت جوڈیا بازار میں 2 ہزار 700 اسکوائر فٹ وئیرنگ ایریا اور 67 ہزار 800 اسکوائر فٹ پیور ایریا تعمیر کیا جائے گا، جبکہ 12 اور 18 انچ قطر کی 2 ہزار 600 فٹ سے زائد نئی سیوریج لائن بچھائی جائے گی۔ بولٹن مارکیٹ میں 69 ہزار 800 اسکوائر فٹ وئیرنگ ایریا اور 35 ہزار 194 اسکوائر فٹ پیور بلاکس تعمیر ہوں گے، اس کے ساتھ 15 اور 18 انچ قطر کی 4 ہزار فٹ سے زائد نئی سیوریج لائن بچھائی جائے گی۔

میٹھادر میں ایک لاکھ 31 ہزار 862 اسکوائر فٹ پیور ایریا اور 4 ہزار 50 فٹ نئی 12 انچ قطر کی سیوریج لائن شامل ہے، جبکہ کھارادر میں 3 لاکھ 31 ہزار 930 اسکوائر فٹ وئیرنگ ایریا، 95 ہزار 610 اسکوائر فٹ پیور ایریا اور 4 ہزار 100 فٹ 18 انچ قطر کی نئی سیوریج لائن بچھائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال مجموعی طور پر 46 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے جائیں گے اور وہ خود روزانہ مختلف مقامات کا دورہ کر کے عوام کو آگاہ کرتے ہیں کہ پیسہ کہاں اور کیسے خرچ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کو حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر کے ہر طبقے کو سہولت پہنچانے کے لیے کام کر رہی ہے،

میئر کراچی نے کہا کہ جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں کو بھی شہری مسائل پر سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہیے، اگر اپوزیشن تنقید کرے تو سوالات بھی ہونے چاہئیں کہ ٹاؤن کی سطح پر اربوں روپے کی روڈ کٹنگ کے باوجود سڑکیں کیوں نہیں بنتیں، میئر کراچی نے کہا کہ اولڈ سٹی ایریا کی بحالی کراچی کے تاریخی، تجارتی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کارکردگی کا مقصد صرف ترقیاتی کام نہیں بلکہ عوام کو روزمرہ زندگی میں حقیقی سہولت فراہم کرنا ہے، اور ان شاء اللہ یہ تمام منصوبے شہر کی بہتری میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں