پنجاب ریونیو بورڈ 158

مٹی کا قرض سابق ممبر پنجاب ریونیو بورڈ،میاں محمد زمان خاں وٹو

اوکاڑہ ( شیر محمد) 1975 سے 1980 کے عرصہ کے دوران جب ہم سکول میں تھے تو چار پانچ دیہات پر مشتمل ہمارے علاقے کے طلبہ مجھ سمیت ڈیڑھ فٹ چوڑی پگڈنڈی استعمال کر کے سائیکلوں کے ذریعے بصیرپور ہائی سکول جاتے تھے۔جو سرکاری ریگولر سڑک تھی وہ بیچ میں نہر پڑنے کی وجہ سے تقریبا متروک ہو چکی تھی۔ چار کلومیٹر طویل اس پگڈنڈی پر جاڑوں کی شدید سردی میں سکول جانا جان جوکھوں کا کام تھا-

میرے تایاجی حاجی محب علی خاں کا برادری میں بہت احترام تھا- انہوں نے اس پگڈنڈی پر سڑک بنوانے کا سوچا۔ چار کلو میٹر طویل پگڈنڈی کا زیادہ تر رقبہ ہماری شہامد کا برادری کی ملکیت تھا۔ ان دنوں برادریوں میں بہت وضع داریاں اور مروتیں ہوتی تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم سڑک کے لیے موضع مودا گئے تو سردار محمد حسن خاں وٹو ( محسن حسن وٹو آف مودا کے والد) نے کہا بابا جی آپ نے ہمارے پاس آ کر زیادتی کی ہے۔ آپ کو خود ہی سڑک نکال لینی چاہیے تھے۔یاد رہے کہ سڑک میں آنے والے رقبہ کی مالیت اب کروڑوں میں ہے اور اگر حکومت اس کو Land Acquisition Act کے تحت acquire کرتی تو اس پر مزید لاگت آتی۔

ان دنوں ونگار کی روایت بہت عام تھی۔چنانچہ مختلف دیہات کے لوگوں کو اکٹھا کر کے ہم نے وہ سڑک بنائی۔جس پر بعد میں ضلع کونسل اوکاڑہ نے پختہ سڑک بنائی لیکن وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ میرا گاؤں موضع ڈھبی چونکہ مختلف دیہات کے درمیان واقع ہے تو میں نےکوششیں شروع کیں کہ علاقہ میں سڑکوں کا نیٹ ورک بچھاؤں۔ تاکہ کسانوں اور طلبہ کو ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے جن سے ہم زمانۂ طالبعلمی میں گزرے تھے۔

اللہ تعالی نے مجھے میرے مقصد میں کامیابی عطاء کی۔ اور پچھلے چار سال کے دوران موضع سلہو نوریکا تا موضع ڈھبی ساڑھے چار کلومیٹر، موضع چنڈور تا موضع ڈھبی دو کلومیٹر، ٹھوکر گاماں واہگرہ تا موضع ڈھبی چار کلومیٹر اور موضع سومیاں بھولو تا موضع ڈھبی اڑھائی کلومیٹر طویل سڑکیں تعمیر ہو چکی ہیں۔ ان سڑکات کی وجہ سے سومیاں بھولو، بھون منضبطہ، بھون مشارکت، انیائیں اور نواحی بستیاں، جمالکے، کانی پور، چنڈور اور ڈھبی کے دیہات نہ صرف آپس میں بذریعہ روڈ منسلک ہو چکے ہیں بلکہ نواحی شہروں بصیرپور، حجرہ شاہ مقیم اور دیپالپور سے بھی منسلک ہو گئے ہیں-

اسی روڈ نیٹ ورک کی پانچویں سڑک بھون منضبطہ تا سومیاں بھولو کی تعمیر کل شروع ہوئی۔اس گاؤں کی ڈوگر برادری سے ہمارا کئی نسلوں سے تعلق ہے۔ میرے مرحوم بھائی کے دوستوں کے اصرار پر کل میں نے افتتاحی دعاء میں شرکت کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں