پنجاب 8

موسم کی تبدیلی کے ساتھ کراچی میں خسرے کے کیسز بڑھنے لگے، طبی ماہرین کی والدین کو احتیاط کی ہدایت

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) موسم کی تبدیلی کے ساتھ بچوں میں خسرے سمیت وائرل بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ طبی ماہرین نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ خسرہ تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے، جس کی بروقت تشخیص اور ویکسینیشن نہ ہونے کی صورت میں یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق خسرے کی ابتدائی علامات میں نزلہ، زکام، کھانسی، بخار اور آنکھوں کی سرخی شامل ہیں، جبکہ عموماً تین سے سات روز بعد چہرے پر دانے نمودار ہوتے ہیں جو بتدریج جسم کے دیگر حصوں تک پھیل جاتے ہیں۔ یہ بیماری متاثرہ بچے سے دوسرے بچوں میں تیزی سے منتقل ہوسکتی ہے۔ماہرینِ اطفال نے والدین پر زور دیا ہے کہ بچوں کو خسرے سے بچاؤ کی ویکسین مقررہ شیڈول کے مطابق لازمی لگوائیں۔ حکومت سندھ کی جانب سے بچوں کو 9 ماہ اور 18 ماہ کی عمر میں خسرے سے بچاؤ کی ویکسین مفت فراہم کی جاتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق خسرے سے متاثرہ بچے کو دوسرے بچوں سے الگ رکھنا بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ہے۔

وٹامن اے کا استعمال بھی مرض کی شدت اور پیچیدگیوں کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے، تاہم اسے معالج کی ہدایت کے مطابق دینا چاہیے۔ڈاکٹروں نے کہا کہ غذائی قلت یا کمزور قوتِ مدافعت کے شکار بچوں میں خسرے کی پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ مرض بعض صورتوں میں نمونیا جیسی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے علامات ظاہر ہونے پر بچے کو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے۔ماہرین نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ بچوں کی ویکسینیشن کا ریکارڈ اور مقررہ تاریخوں کا خاص خیال رکھیں اور بیماری کی غیر معمولی علامات کو نظرانداز نہ کریں۔ بروقت طبی معائنہ اور مکمل ویکسینیشن بچوں کو خسرے اور اس کی سنگین پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں